لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ہونڈا کھیت لینا جائز ہے کی ناجائز?

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ہونڈا کھیت لینا جائز ہے کی ناجائز

تمام علمائے دین سے گزارش ہیکہ اس مسئلہ کو حل کریں اور مسئلہ یہ ہیکہ ہونڈا کھیت لینا جائز ہے کی ناجائز )(ہونڈا کا مطلب یہ ہیکہ مان لیجیئے کہ ہمارے پاس پچاس ڈھسمل کھیت ہے اور ہم نے کسی کو یہ کہکر دیا کہ ہم کو ہر فصل پر پانچ ہزار چاہیئے اب اس سے کھیتی کرو یا پھر ویسے ہی چھوڑ دو تمہاری مرضی ہم ہر فصل پر پانچ ہزار دیتے رہنا مدلل اور مفصل جواب عنایت کیجیئے بڑی نوازش ہو گی ۔ سائل:- احقر ایم ایش فیضی نظامی الجواب بتوفیق الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب صورت مسئولہ میں ایسا معاملہ جائز ہے کہ مدت معینہ کےلئے روپئےکی کسی مقدار معین پر کھیت کو کرایہ پر لینا یا دیناجائز ھے جبکہ یہ طے ہوجائے کہ فلاں چیزکی کاشت کرےگا یا تعمیم طے ہوجائے کہ جو جی چاھےکرے۔ درمختارمیں ہے۔استاجر ارضا ولم یذکر انہ یزرعھا او ای شئ یزرعھافسدت الا ان یعم واذا فسدت فزرعھا فمضی الاجل عاد صحیحا فلہ المسمی استحسانا (باب،الاجارۃ الفاسدۃ،جلد٩ ص٨٣ ) بہارشریعت حصہ چہاردہم میں ہے زمین کو اجارہ پر دیا اور یہ نہیں بیان کیاکہ اس میں زراعت کرے گا یایہ کہ کس چیز کی کاشت کرے گاتو اجارہ فاسد ہے کیونکہ زمین سے مختلف منافع حاصل کیے جاسکتے ہیں لہٰذا تعیین ضروری ہے یایہ کہ تعمیم کردے کہ تیراجو جی چاہے کراور جب یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو فاسد ہے پھر مزارع (کاشتکار) نے کاشت کی اور مدت پوری ہوگئی تویہ اجارہ صحیح ہوگیا اور جو اُجرت مقرر ہوئی تھی دینی ہوگی اور اگر مدت پوری نہ ہوئی تو اجر مثل واجب ہوگا اور کاشت کرنے سے پہلے دونوں میں نزاع پیدا ہوجائے تو اجارہ فسخ کردیا جائے۔ (جائزو ناجائز اجارے کا بیان ص،١٥٢/١٥٣ مسئلہ نمبر ٥٠ ) لہذا جب مالک زمین نے ایک سال تک یہ اجازت دےدی کہ جتنی چاہو فصل کرو تویہ تعمیم ہوگئ اور اجارہ صحیح و درست ہے اور زمین کا جو کرایہ طے ہوا ہے زید وہ پائے گا۔ واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم باالصواب منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ مہراجگنج یوپی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات