لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

شادی میں جہیز/کیش/موٹر سائیکل مانگنے والے کا حکم؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شادی میں جہیز/کیش/موٹر سائیکل مانگنے والے کا حکم؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نے اپنی شادی میں ۲ لاکھ روپئے کیش جہیز میں مانگ کر لئے اب شرمندگی کی وجہ سے یا شرعاً ناجائز ہونے کي وجہ سے اس کو واپس کرنا چاہتا ہے تو کیا صورت ہوگی جب کہ شادی ہوئے ۳ سال ہوگئے حکم شرع سے آگاہ فرمائیں؟ المستفتی: محمد ارشاد عالم کُشی نگر یوپی انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب- صورت مسئولہ میں زید نے جس سے دو لاکھ لیا ہے اسے واپس کرے وہ نہ ہو تو اس کے وارثین کو دے اور رب تعالی کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے کہ یہ رشوت ہے اور رشوت لینا حرام ہے۔ فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے: "لو اخذ اھل المرأۃ شیئا عند التسلیم فللزوج ان یستردوہ لانه رشوۃ کذا فی البحر الرائق ” اھ (ج١، ص٣٢٧، کتاب النکاح، الباب السابع، والفصل السادس العشرۃ فی جھاز البیت) یعنی عورت کے گھر والوں نے رخصتی کے وقت کچھ لیا تھا تو اسکے واپس لینے کا شرعاً حق ہے اس لئے کہ وہ رشوت ہے۔ اور جب لڑکے سے لینا رشوت ہے تو لڑکی سے لینا بدرجہ اولیٰ رشوت ہے۔ فتاوی فیض الرسول میں ہے: ” لڑکا یا اس کے گھر والوں کا شادی کرنے کے لئے نقد روپیہ یا سامان جہیز مانگنا یا موٹر سائیکل وغیرہ کا مطالبہ کرنا حرام و ناجائز ہے اس لئے کہ وہ رشوت ہے” اھ (ج٢، ص٦٨٣، حظر و اباحت کا بیان، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ٢١ جمادی الاول ٤٤٤١؁ھ مطابق ١٦ دسمبر ٢٢٠٢؁ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات