بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1168 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا جبرائیل و میکائیل و اسرافیل و عزرائیل علیہم السلام فرشتے ہونے کے ساتھ رسول بھی ہیں؟
اُمید ہےکہ آپ سبھی حضرات بخیر ہونگے عرض گزار ہوں کہ کیا حضرت جبرائیل, حضرت میکائیل,حضرت اسرافیل, حضرت عزرائیل علیہم السلام, فرشتے ہونے کے ساتھ رسول بھی ہیں؟برائے کرم مدلل ومفصل جواب عنایت فرمائیں . کرم نوازش ہوگی. المستفتی :غُلام مرتضٰی قادری اُتر دیناجپوری الجـــــوابـــــــــــــــ بعون الملک الوہاب جی ہاں جبرائیل و میکائیل و اسرافیل و عزرائیل علیہم السلام فرشتے ہونے کے ساتھ رسول بھی ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ” اللہ یصطفی من الملائکۃ رسلا و من الناس ” یعنی اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسول اور آدمیوں میں سے ” اھ ( پ:17/آیت:75/ سورۂ حج) اس آیت کریمہ کے تحت تفسیر جلالین شریف میں ہے کہ ” بمن یتخذہ رسولا کجبریل و میکائیل و ابراھیم و محمد وغیرھم صلی اللہ علیھم وسلم ” اھ 📚( ص:341/ مدار الوطن للنشر) اور تفسیر روح البیان میں ہے کہ ” (من الملائکۃ رسلا) یتوسطون بینہ و بین الانبیاء بالوحی مثل جبرائیل و میکائیل و اسرافیل ” اھ( ج:6/ص:62) اور تبیان القرآن میں ہے کہ ” یہاں پر ان فرشتوں کو رسول بنانے کا ذکر ہے جنکو بنو آدم کی طرف رسول بنایا گیا ہے اور وہ اکابر ملائکہ ہیں جیسے حضرت جبریل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، حضرت عزرائیل علیہم الصلاۃ والسلام ” اھ ( ج:7/ص:802/ فرید بک سٹال اردو بازار لاہور) اور تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ_↓ ” اللہ عزوجل فرشتوں اور انسانوں میں سے جسے چاہتا ہے اسے رسالت کا منصب عطا فرمادیتا ہے فرشتوں میں مثلا حضرت جبرائیل ، میکائیل ، اسرافیل ، عزرائیل علیہم السلام ” اھ ( ج:6/ص:486/ مکتبہ المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبــــــــہ:حضرت مفتی اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ، 17۔۔۔ربیع النور ۔۔1444ھ,,14۔۔اکتوبر۔۔2022۔۔بروز جمعہ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ