بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-106 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
محرم (احرام والا) جب تک اپنے بال کاٹ کر احرام سے باہر نہ آ جائے، اس کے لیے اپنے یا کسی دوسرے محرم کے بال کاٹنا حرام ہے۔ اگر کسی نے اپنے بال کٹوانے سے پہلے کسی دوسرے کے بال کاٹ دیے تو اس پر جرمانہ (دم یا صدقہ) واجب ہو جائے گا۔ پہلے خود حلال ہوں، پھر دوسروں کے بال کاٹیں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ