بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

ایک مجلس کی تین طلاقوں کا شرعی حکم

اگر غصے میں ایک ہی بار میں کہہ دیا کہ 'میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں' تو کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

چاروں ائمہ اور جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں۔ اس سے طلاقِ مغلظہ واقع ہو جاتی ہے، نکاح فوراً ختم ہو جاتا ہے اور بغیر حلالہِ شرعیہ کے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات