دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #590
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو طلاق کی نیت کیے بغیر کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے جا یہاں سے جہاں تیری مرضی ہے
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,783
سوال (Question):
حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو طلاق کی نیت کیے بغیر کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے جا یہاں سے جہاں تیری مرضی ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو طلاق کی نیت کیے بغیر کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے جا یہاں سے جہاں تیری مرضی ہے کیا طلاق ہو جائے گی ؟
السلام علیکم و رحمتہ الله تعالٰی وبرکاۃ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں ذید نے حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو طلاق کی نیت کیے بغیر کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے جا یہاں سے جہاں تیری مرضی ہے اب امر طلب یہ ہے کہ اس حالت میں زوجہ پر کونسی طلاق واقع ہوگی اور اگر کسی صورت میں وہ رجعت کرنا چاہتا ہے تو ہوگی کہ نہیں اگر ہوگی تو کیا مہر جدید بھی اس میں شرط ہو گا کہ نہیں اگر مہر جدید ہوگا تو اس کی رقم کیا ہوگی با تفصیل وضاحت فرمائیں عین کرم نوازی ہوگی السائل محمد عبدالغنی اشرفی القادری،الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن پڑے گی اور نکاح ختم ہوجائے گا، اب اگر عدت کے دوران یا عدت گزرنے کے بعد میاں بیوی دونوں باہم رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کرسکتے ہیں، نکاح کے بعد آئندہ کے لیے شوہر کے پاس دو طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ۔کتاب الطلاق ۔باب الکنایات ۔جلد4ص518مکتبہ فیصل دیوبند ۔ “ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف. (قوله: فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحاً لا كنايةً، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن؛ لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحاً؛ لأنه صار فاشياً في العرف في استعماله في الطلاق لايعرفون من صيغ الطلاق غيره ولايحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لايستعمل عرفاً إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحاً كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية”. فقط والله أعلم کتبہ:محمد عمران القادری اشرفی جامعی ۔ خادم جہانگیر اشرف دارالافتاوالقضا۔ جامعہ معین السنہ ڈینگلہ پونچھ ۔جموں وکشمیر۔ جواب صحیح ہے ۔۔ حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی جامعی ۔ صدر شعبئہ افتا جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ یوپی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
19
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
10
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
29
رزق اور کاروبار میں برکت کی دعا
Read Fatwa
5166
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کی مسنون دعا
Read Fatwa
5061