بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

حمل (Pregnancy) کی حالت میں طلاق کا حکم

کیا حاملہ عورت کو طلاق ہو جاتی ہے اور اس کی عدت کیا ہوتی ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عوام میں یہ غلط فہمی ہے کہ حمل کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی۔ شرعاً حمل کی حالت میں دی گئی طلاق بالکل واقع ہو جاتی ہے۔ حاملہ عورت کی عدت بچے کی پیدائش تک ہوتی ہے (وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ)۔ طلاق کے بعد جس دن اور جس وقت بھی بچہ پیدا ہو جائے، عدت فوراً ختم ہو جائے گی۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات