بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-627 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
طلاق سے کئی سال پہلے سے شوہر کے پاس نہیں تھی تو اس عدت کیا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ذید نے ھندہ کو طلاق دی تو عورت کو عدت کتنی گزارنی ھوگی جبکہ طلاق شدہ عورت پانچ سال سے اپنے ماں باپ کے ساتھ ہے؟ اور یہی عورت طلاق کے بعد ایک یا دو مہینے کے اندر دوسری شادی کرتی ہے تو کر سکتی ہے؟الجواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ طلاق سے پہلے چاہے جتنا عرصہ عورت شوہر سے جدا رہی ہو اس کا اعتبار نہیں، طلاق کے بعد عدت کا شمار ہوتا ہے،اور مدخولہ حائضہ غیر حاملہ کی عدت تین ماہواریاں ہیں چاہے وہ دو ماہ میں آئیں یا دو سال میں، تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے عورت کا نکاح کرنا فاسد اور اشد حرام ہے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ : مفتی کامران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ