بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

طلاق سے کئی سال پہلے سے شوہر کے پاس نہیں تھی تو اس عدت کیا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

طلاق سے کئی سال پہلے سے شوہر کے پاس نہیں تھی تو اس عدت کیا ہے ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ذید نے ھندہ کو طلاق دی تو عورت کو عدت کتنی گزارنی ھوگی جبکہ طلاق شدہ عورت پانچ سال سے اپنے ماں باپ کے ساتھ ہے؟ اور یہی عورت طلاق کے بعد ایک یا دو مہینے کے اندر دوسری شادی کرتی ہے تو کر سکتی ہے؟

الجواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ طلاق سے پہلے چاہے جتنا عرصہ عورت شوہر سے جدا رہی ہو اس کا اعتبار نہیں، طلاق کے بعد عدت کا شمار ہوتا ہے،اور مدخولہ حائضہ غیر حاملہ کی عدت تین ماہواریاں ہیں چاہے وہ دو ماہ میں آئیں یا دو سال میں، تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے عورت کا نکاح کرنا فاسد اور اشد حرام ہے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ : مفتی کامران عطاری مدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات