بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

زید نے اپنی بیوی کو تین مہینے میں تین طلاق دی تو کیا طلاق ہوئی یا نہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

زید نے اپنی بیوی کو تین مہینے میں تین طلاق دی تو کیا طلاق ہوئی یا نہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی کو پہلے مہینے میں ایک طلاق دی اس کے بعد ان دونوں نے رجوع نہیں کیا پھر دوسرے مہینے میں دوسری طلاق دی اور تیسرے مہینے میں تیسری طلاق دی۔ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں کیونکہ لڑکی جس کو طلاق دی وہ اور اسکے اپنے کچھ لوگ اس بات سے انکار کررہے ہیں کہ ایسے طلاق نہیں ہوتی بغیر گواہوں کے اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاند کی بیس تاریخ کے بعد اگر لکھ کر دو گے تبھی طلاق واقع ہوگی۔المستفتی:۔ عمر فاروق ڈنی دہار راجوری

باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب

صورت مسؤلہ میں زید کی بیوی پر طلاق واقع ہوگئی لیکن تفصیل اس بارے میں یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوں گی۔ اگر بیوی کی عدت تین حیض مکمل ہونے سے پہلے دوسری اور تیسری طلاق دی تو تینوں واقع ہوگئیں عورت بحرمت غلیظہ شوہر پر حرام ہوگئی بغیر حلالہ کے اس کے لیے حلال نہیں۔ اور اگر عدت مکمل ہونے کے بعد دوسری یا تیسری طلاق دی تو وہ واقع نہ ہوگی کیونکہ پہلی ہی سے عورت نکاح سے نکل گئی باقی کی محل ہی نہ رہی اس صورت میں عورت اگر رضا مند ہو زید اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی ضرورت نہ ہوگی۔واضح رہے کہ امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک کم از کم وہ مدت جس میں عدت گزرنے کے بارے میں عورت کا بیان معتبر ہے ساٹھ دن ہے اور صاحبین کے نزدیک انتالیس دن ہے۔ لہذا اگر عورت اگر دعوی کرے کہ تیسری طلاق سے پہلے عدت گزرچکی تھی اور پہلی طلاق کے بعد ساٹھ دن گزر بھی چکے ہوں تو عورت کا بیان معتبر ہوگا اور اس پر تیسری طلاق نہ ہوگی اور اس صورت میں دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ فتاوی رضویہ میں اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں ہے: "عورت کو تین حیض شروع ہوکر ختم ہو چکے تو یہ تین طلاقیں نہ ہوئیں لفوات المحل بالبینونة عورت اسی پہلی طلاق پر نکاح سے نکل گئی اب بلا حلالہ اس سے نکاح جدید کرسکتا ہے اور اگر اس پانچ چھ مہینے میں تین حیض آکر ختم نہ ہوئے تو اب تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا”(ج ۵ ص ٦٢٩) رہا "لڑکی اور اس کے گھر والوں کا یہ کہنا کہ بغیر گواہوں کے طلاق نہیں ہوتی اور چاند کی بیس تاریخ کے بعد اگر لکھ کر دو گے تبھی طلاق ہوگی” یہ سب جہالت کی باتیں ہیں طلاق کے لیے نہ ہی گواہوں کا ہونا ضروری ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تاریخ مخصوص ہے۔ والله تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ:۔ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر ٢٤/صفر المظفر ١٤٤٤٥ھ مطابق ١١/ستمبر ٢٠٢٣ء الجواب صحیح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات