بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

تفسیر سورہ نحل آیت ۸۸۔ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ زِدْنٰہُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

دین کاراستہ روکنے والے لبرل وسیکولرلیڈروں کودوگناعذاب ہوگا

{اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ زِدْنٰہُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ }(۸۸) ترجمہ کنزالایمان:جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم نے عذاب پر عذاب بڑھایا بدلہ ان کے فساد کا۔ ترجمہ ضیاء الایمان: جنہوں نے کفر اختیارکیا اور اللہ تعالی کے دین سے روکا ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔

لوگوں کو دین سے دورکرنے والوں کودوگناعذاب ہوگا

قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ:عَقَارِبُ أَنْیَابُہَا کَالنَّخْلِ الطِّوَالِ،وَحَیَّاتٌ مِثْلُ أَعْنَاقِ الْإِبِلِ، وَأَفَاعِی کَأَنَّہَا الْبَخَاتِیّ تَضْرِبُہُمْ، فَتِلْکَ الزِّیَادَۃُوَقِیلَ:الْمَعْنَی یَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ إِلَی الزَّمْہَرِیرِ فَیُبَادِرُونَ مِنْ شِدَّۃِ بَرْدِہِ إِلَی النَّارِوَقِیلَ:الْمَعْنَی زِدْنَا الْقَادَۃَ عَذَابًا فَوْقَ السَّفَلَۃِ، فَأَحَدُ الْعَذَابَیْنِ عَلَی کُفْرِہِمْ وَالْعَذَابُ الْآخَرِ عَلَی صَدِّہِمْ(بِما کانُوا یُفْسِدُونَ)فِی الدُّنْیَا مِنَ الکفر والمعصیۃ. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہماارشادفرماتے ہیں کہ وہ بچھوہیں جن کی داڑھیں کھجورکے درخت کی طرح طویل ہوں گی اورسانپ ہیں جواونٹ کی گردن کی مثل ہوں گے اوراژدہاہیںگویاوہ لمبی گردن والے اونٹ ہیں ، وہ انہیں ماریں گے ، پس یہی زیادتی ہے ۔ اوریہ بھی کہاگیاہے کہ اس کامعنی ہے کہ انہیں آگ سے زمہریرکی طرف نکالاجائے گا، پس وہ اس کی سخت اورشدیدٹھنڈک کی وجہ سے آگ کی طرف بھاگیں گے اوریہ بھی بیان کیاگیاہے کہ اس کامعنی ہے کہ ہم نے دین سے گمراہ کرنے والوں کو ان کی اتباع کرنے والوں کی نسبت عذاب بڑھادیا، پس دوعذابوں میں سے ایک ان کے کفرکی وجہ سے ہوگااوردوسراعذاب ان کے لئے دوسروں کو دین سے روکنے کے لئے ہوگا۔ {بِما کانُوا یُفْسِدُونَ}اس وجہ سے کہ وہ دنیامیں کفراورمعصیت کے سبب فساد برپاکرتے ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۱۰:۱۶۴)

کسی بھی شرعی حکم پرایمان لانے سے منع کرنے والے عذاب میں مبتلاء ہوں گے

اعْلَمْ أَنَّہُ تَعَالَی لَمَّا ذَکَرَ وَعِیدَ الَّذِینَ کَفَرُوا، أَتْبَعَہُ بِوَعِیدِ مَنْ ضَمَّ إِلَی کُفْرِہِ صَدَّ الْغَیْرِ عَنْ سَبِیلِ اللَّہِ وَفِی تَفْسِیرِ قَوْلِہِ:وَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللَّہِ وَجْہَانِ:قِیلَ:مَعْنَاہُ الصَّدُّ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْأَصَحُّ أَنَّہُ یَتَنَاوَلُ جُمْلَۃَ الْإِیمَانِ بِاللَّہِ وَالرَّسُولِ وَبِالشَّرَائِعِ، لِأَنَّ اللَّفْظَ عَامٌّ فَلَا مَعْنَی لِلتَّخْصِیصِ وَقَوْلُہُ:زِدْناہُمْ عَذاباً فَوْقَ الْعَذابِ فَالْمَعْنَی أَنَّہُمْ زَادُوا عَلَی کُفْرِہِمْ صَدَّ غَیْرِہِمْ عَنِ الْإِیمَانِ فَہُمْ فِی الْحَقِیقَۃِ ازْدَادُوا کُفْرًا عَلَی کُفْرٍ، فَلَا جَرَمَ یَزِیدُہُمُ اللَّہُ تَعَالَی عَذَابًا عَلَی عَذَابٍ،وَأَیْضًا أَتْبَاعُہُمْ إِنَّمَا اقْتَدَوْا بِہِمْ فِی الْکُفْرِ، فَوَجَبَ أَنْ یَحْصُلَ لَہُمْ مِثْلُ عِقَابِ أَتْبَاعِہِمْ لِقَوْلِہِ تَعَالَی:وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقالَہُمْ وَأَثْقالًا مَعَ أَثْقالِہِمْ۔وَلِقَوْلِہِ عَلَیْہِ السَّلَامُ: مَنْ سَنَّ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَعَلَیْہِ وِزْرُہَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف{وَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللَّہ}کی تفسیردووجہ سے ہوسکتی ہے ۔ پہلی وجہ : اس کامعنی مسجد حرام شریف سے روکناہے ۔ دوسری وجہ : زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺاورتمام شرعی تعلیمات پرایمان لانے سے روکنے کوشامل ہے کیونکہ الفاظ عام ہیں توتخصیص کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ {زِدْناہُمْ عَذاباً فَوْقَ الْعَذابِ}اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے کفرمیں یوں اضافہ ہواکہ انہوںنے دوسروں کو ایمان لانے سے روکاتوانہوںنے حقیقتاًکفردرکفرمیں اضافہ کیاتوحق ہے کہ اللہ تعالی ان کے عذاب پرعذاب میں اضافہ فرمائے ، دوسری بات یہ ہے کہ ان کے پیروکاروں نے کفرمیں ان کی اتباع کی توضروری ہے کہ ان پیروکاروں کے عذاب کی مثل ان لیڈروں کو بھی حاصل ہوجیساکہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقالَہُمْ وَأَثْقالًا مَعَ أَثْقالِہِمْ}( اوربے شک ضروراپنے بوجھ اٹھائیں گے اوراپنے بوجھوں کے ساتھ اوربوجھ بھی اٹھائیں گے ۔ اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکافرمان شریف ہے {مَنْ سَنَّ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَعَلَیْہِ وِزْرُہَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ}جس نے براطریقہ جاری کیااس کابوجھ اس پراورقیامت تک اس پرعمل کرنے والوں کابوجھ بھی اس پرہوگا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۲۰:۲۵۷)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات

تفسیر سورہ فرقان آیت ۲۷۔ وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلً

حضورتاجدارختم نبوتﷺکااپنے گستاخ کو قتل کرنے کی قسم کھانااورپھراسے خود اپنے مبارک ہاتھ سے قتل کرنا {وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ...