بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-441 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سحری کا وقت ‘صبح صادق’ طلوع ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اذان اسی وقت کے ختم ہونے کا اعلان ہے۔ اگر وقت ختم ہو چکا ہو تو منہ میں موجود لقمہ تھوکنا فرض ہے، اگر اسے نگل لیا یا پانی پی لیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہو گی۔ اذان ختم ہونے کا انتظار کرنا اور کھاتے رہنا سخت جہالت ہے۔ کیلنڈر کے وقت کی پابندی کریں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ