بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

قربانی کے جانور (گائے/اونٹ) میں عقیقہ کا حصہ ملانا

کیا ہم بقر عید کے موقع پر گائے کے سات حصوں میں سے ایک حصہ بچے کے عقیقے کا رکھ سکتے ہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جی ہاں، بڑے جانور (گائے، بیل، اونٹ) کے 7 حصوں میں شرکاء کی نیت اگرچہ مختلف ہو مگر سب کا مقصد تقرب الی اللہ ہو، تو یہ جائز ہے۔ لہٰذا قربانی کے جانور میں کسی حصے دار کا عقیقے کی نیت سے حصہ رکھنا بالکل درست ہے، اس سے قربانی اور عقیقہ دونوں ادا ہو جائیں گے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات