لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

قربانی کے جانور (گائے/اونٹ) میں عقیقہ کا حصہ ملانا

کیا ہم بقر عید کے موقع پر گائے کے سات حصوں میں سے ایک حصہ بچے کے عقیقے کا رکھ سکتے ہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جی ہاں، بڑے جانور (گائے، بیل، اونٹ) کے 7 حصوں میں شرکاء کی نیت اگرچہ مختلف ہو مگر سب کا مقصد تقرب الی اللہ ہو، تو یہ جائز ہے۔ لہٰذا قربانی کے جانور میں کسی حصے دار کا عقیقے کی نیت سے حصہ رکھنا بالکل درست ہے، اس سے قربانی اور عقیقہ دونوں ادا ہو جائیں گے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-371 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

قربانی و عقیقہ کے مسائل