لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
01 اکتوبر 2026

کم عمر بچوں کو کون بچائے از مفتی محمد رضا مرکزی

کم عمر کے بچوں کو کون بچائے از مفتی محمد رضا مرکزی

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کم عمر بچوں کو کون بچائے

رات کے سناٹے میں جب بیشتر گھروں کے دروازے بند ہوچکے ہوتے ہیں، مائیں اپنے بچوں کے انتظار میں ہوتی ہیں، باپ دن بھر کی تھکن کے بعد آرام کر رہے ہوتے ہیں، اسی وقت شہر کے بعض ہوٹلوں اور بیٹھکوں میں کم عمر بچوں کی ایسی محفلیں جمتی ہیں جنہیں دیکھ کر ایک حساس دل کانپ اٹھتا ہے۔ کہیں حقے کا دھواں اٹھ رہا ہے، کہیں سگریٹ اور بیڑی سلگ رہی ہے، کہیں موبائل کی اسکرین پر وقت ضائع ہورہا ہے اور کہیں دوستوں کی صحبت میں وہ بچے بیٹھے ہیں جن کی عمر ابھی کتاب، کھیل، تعلیم اور تربیت کی ہے۔ یہ محض ایک سماجی برائی نہیں یہ ہمارے گھروں، ہماری تربیت اور ہماری آئندہ نسل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ فلاں بچہ سگریٹ کیوں پی رہا ہے ؟اصل سوال یہ ہے کہ وہ بچہ رات گئے ہوٹل تک پہنچا کیسے؟ سوال یہ نہیں کہ ایک بچے نے حقہ کیوں پیا؟ سوال یہ ہے کہ اسے روکنے والا کون تھا؟ سوال یہ نہیں کہ بچے خراب صحبت میں کیوں بیٹھتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ ہم نے انہیں اچھی صحبت، مناسب مصروفیت اور مقصدِ زندگی کب دیا؟

بچپن کھیلنے اور سنورنے کا زمانہ ہے۔بچپن زندگی کا وہ مرحلہ ہے جب شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اس عمر میں بچے جو ماحول دیکھتے ہیں، جن لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، جن عادات کو معمول بنتے دیکھتے ہیں، ان کا اثر ان کی شخصیت پر پڑتا ہے۔

اسی لیے کم عمر بچوں کا رات دیر تک ہوٹلوں میں بیٹھنا معمولی بات سمجھنا خطرناک غفلت ہے۔

آج بچہ کہتا ہے: "میں دوستوں کے ساتھ ہوں۔”

کل وہ کہہ سکتا ہے: "مجھے گھر کی بات اچھی نہیں لگتی۔”پھر آہستہ آہستہ گھر والوں سے دوری، تعلیم سے بے رغبتی، عبادت میں سستی اور بری صحبت سے وابستگی پیدا ہوسکتی ہے۔

ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا، لیکن خطرے کو خطرہ سمجھنا ضروری ہے۔

حقہ صرف دھواں نہیں، ایک عادت کا دروازہ بھی بن سکتا ہے ۔بعض لوگ حقے کو سگریٹ سے کم خطرناک سمجھ کر بچوں کے لیے معمولی چیز تصور کرتے ہیں۔ یہ سوچ درست نہیں۔ کم عمر بچے کے لیے تمباکو یا نکوٹین والی مصنوعات کو تفریح کا حصہ بنا دینا صحت مند تربیت نہیں۔ اصل مسئلہ صرف دھواں نہیں، بلکہ عادت، ماحول اور ذہنی رویہ ہے۔جب بچے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ رات گئے دوستوں کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھنا، حقہ پینا یا سگریٹ نوشی کرنا "مستی” ہے، تو پھر برائی رفتہ رفتہ معمولی محسوس ہونے لگتی ہے۔

اور جب برائی معمول بن جائے تو معاشرہ اسے روکنے کے بجائے برداشت کرنا شروع کردیتا ہے۔

آج بہت سے والدین اپنے بچوں کی تعلیم، لباس اور جیب خرچ کا انتظام تو کرتے ہیں، مگر ان کے اوقات، دوستوں اور سرگرمیوں سے بے خبر رہتے ہیں۔ بچے کو مہنگا موبائل دے دینا، ہر فرمائش پوری کردینا اور جیب میں پیسے ڈال دینا آسان ہے لیکن اس کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا، اس کی پریشانی سننا، اس کے دوستوں کو جاننا اور اس کی روزمرہ زندگی پر نظر رکھنا اصل ذمہ داری ہے۔

والدین کو اپنے بچوں سے محبت بھی کرنی چاہیے اور مناسب حدود بھی مقرر کرنی چاہئیں۔ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کو ہر آزادی دے دی جائے۔اور تربیت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کی جائے۔ ضرورت محبت، حکمت، نگرانی اور بہترین مکالمے گفتگو کی ہے۔

بچے گھر سے نہیں، بعض اوقات توجہ کی کمی سے دور ہوتے ہیں ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض بچے گھر میں ہوتے ہوئے بھی جذباتی طور پر تنہا ہوتے ہیں۔

والدین کے پاس ان کے لیے وقت نہیں۔ باپ کاروبار میں مصروف، ماں گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف، اور بچہ موبائل اور دوستوں کے حوالے۔ پھر وہ جس دوست سے توجہ، ہمدردی یا قبولیت محسوس کرتا ہے، اسی کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔

لہٰذا والدین اپنے بچوں سے روزانہ کچھ وقت ضرور بات کریں۔

پوچھیں:

تمہارا دن کیسا گزرا؟

آج کس کے ساتھ رہے؟

کسی چیز نے پریشان تو نہیں کیا؟

کیا تمہیں اسکول یا مدرسے میں کوئی مسئلہ ہے؟

کیا تمہارے دوست تمہیں کسی غلط کام پر مجبور کرتے ہیں؟

یہ چھوٹے چھوٹے سوال کبھی کبھی بڑے مسائل کو پیدا ہونے سے پہلے روک دیتے ہیں۔

ہوٹل مالکان بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں یہ مسئلہ صرف والدین کا نہیں۔

ہوٹل، کیفے اور بیٹھک چلانے والے افراد بھی اپنے کاروباری کردار کے ساتھ سماجی ذمہ داری رکھتے ہیں۔اگر کسی جگہ کم عمر بچے رات گئے بیٹھے ہوں اور وہاں تمباکو نوشی یا دوسری نامناسب سرگرمیاں جاری ہوں تو اس پر خاموش رہنا معاشرتی ذمہ داری سے فرار ہے۔

کاروبار ضرور کیجیے، مگر بچوں کے مستقبل کی قیمت پر نہیں۔ چند روپے کی آمدنی کے مقابلے میں ایک بچے کی صحت، تعلیم اور کردار کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

دوستوں کا انتخاب زندگی بدل سکتا ہے

اسلام نے صحبت اور رفاقت کی اہمیت پر بار بار توجہ دلائی ہے۔ قرآن کریم قیامت کے دن بری صحبت پر افسوس کا نقشہ کھینچتا ہے:

"اے کاش! میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔”

یہ آیت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ دوست صرف وقت گزارنے والا شخص نہیں ہوتا۔ وہ انسان کی سوچ، عادت اور راستے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

اس لیے بچوں کو صرف یہ نہ کہیں کہ "برے دوست چھوڑ دو”، بلکہ انہیں اچھے دوست تلاش کرنا بھی سکھائیں۔ مسجد سے وابستہ نوجوان، تعلیمی سرگرمیاں، کھیل، مطالعہ، دینی مجالس، ہنر سیکھنے کے مواقع اور مثبت اجتماعی سرگرمیاں بچوں کو بہتر ماحول فراہم کرسکتی ہیں۔

مساجد صرف نماز پڑھنے کی جگہیں نہیں وہ معاشرتی اصلاح کے مراکز بھی ہوسکتی ہیں۔ ائمہ اور علماء کو چاہیے کہ نوجوانوں کے مسائل پر حکمت کے ساتھ گفتگو کریں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "سگریٹ حرام ہے” یا "بری صحبت چھوڑ دو”؛ نوجوانوں کو یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ وہ بری عادت کی طرف کیوں جارہے ہیں، اس سے کیسے بچ سکتے ہیں اور اپنی زندگی کا مقصد کیا بنائیں۔

مساجد میں نوجوانوں کے لیے علمی نشستیں، اخلاقی تربیت، مطالعہ اور مفید سرگرمیوں کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ نوجوان اگر مسجد سے جڑیں گے تو معاشرہ مضبوط ہوگا۔

اسکول، مدرسہ اور محلہ بھی کردار ادا کریں کسی بچے کی تربیت صرف گھر میں نہیں ہوتی۔ اسکول، مدرسہ، محلہ، دوست، سوشل میڈیا اور پورا معاشرتی ماحول اس کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔

محلے کے ذمہ دار افراد کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ہمارے علاقے کے بچے رات گئے کہاں بیٹھتے ہیں؟ انہیں کون سی سہولتیں میسر ہیں؟ کیا ان کے لیے کھیل کا میدان ہے؟ کیا مطالعے کی جگہ ہے؟ کیا دینی و اخلاقی تربیت کا کوئی منظم انتظام ہے؟

اگر ہم بچوں کو مثبت سرگرمیاں نہیں دیں گے تو منفی سرگرمیاں خود ان تک پہنچ جائیں گی۔

اگر کسی بچے کو سگریٹ پیتے یا حقہ پیتے پکڑا جائے تو فوراً اسے ذلیل کرنا، سب کے سامنے مارنا یا بدنام کرنا مسئلے کا بہترین حل نہیں۔

غلطی کو غلط کہنا ضروری ہے، مگر بچے کو یہ احساس بھی دلانا ضروری ہے کہ تم غلطی ہو، لیکن تم خود غلط انسان نہیں ہو تم اپنی غلطی چھوڑ سکتے ہو۔

والدین کو چاہیے کہ بچے کی بات سنیں، اس کے دوستوں اور ماحول کو سمجھیں، مناسب حدود مقرر کریں اور ضرورت پڑنے پر قابلِ اعتماد استاد، عالم یا صحت کے ماہر سے مدد لیں۔

یاد رکھیں ۔اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھنا چاہیے۔

اے مسلم نوجوانوں! تمہارا مستقبل ہوٹل کے دھوئیں سے کہیں بڑا ہے

اے ہمارے نوجوان!

تمہارے ہاتھ صرف سگریٹ پکڑنے کے لیے نہیں بنے۔

تمہاری آنکھیں رات گئے ہوٹلوں کی دھند میں گم ہونے کے لیے نہیں۔

تمہاری جوانی صرف دوستوں کے ساتھ بے مقصد بیٹھنے کے لیے نہیں۔

تمہارے اندر صلاحیت ہے، علم حاصل کرنے کی طاقت ہے، ہنر سیکھنے کی صلاحیت ہے، اپنے والدین کا سہارا بننے کا امکان ہے، قوم و ملت کی خدمت کرنے کا جذبہ ہے۔

اپنے چند لمحوں کی تفریح کے بدلے اپنا قیمتی وقت مت گنواؤ۔بری صحبت سے بچو، راتوں کی بے مقصد آوارگی سے بچو، تمباکو نوشی سے دور رہو اور ایسے دوست تلاش کرو جو تمہیں آگے بڑھائیں، پیچھے نہ دھکیلیں۔

معاشرے کو ایک اجتماعی عہد کرنا ہوگا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف "خراب ہونے کے بعد” نہیں سنبھالیں گے۔بلکہ خراب ماحول سے پہلے بچائیں گے۔

والدین بچوں کو وقت دیں۔

ہوٹل مالکان کم عمر بچوں کے معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔علماء نوجوانوں سے حکمت اور محبت کے ساتھ رابطہ بڑھائیں۔ اساتذہ بچوں کے رویوں میں آنے والی تبدیلیوں پر توجہ دیں۔

محلہ کمیٹیاں مثبت سرگرمیوں کا اہتمام کریں۔

اور انتظامیہ بھی کم عمر بچوں کو تمباکو نوشی کی طرف لے جانے والے ماحول کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔

آج اگر ہمارا بچہ رات کے اندھیرے میں کسی ہوٹل کے کونے میں بیٹھا ہے تو ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ "وہ تو دوسرے بچوں کے ساتھ گیا ہے۔”

ہمیں کہنا چاہیے:

وہ ہمارا بچہ ہے۔

اس کی کامیابی ہماری خوشی ہے، اس کی تباہی ہماری ناکامی۔

آج اسے وقت دے دیا تو شاید کل وہ ہمارا فخر بنے گا۔

آج اسے بری صحبت سے بچا لیا تو شاید کل وہ کسی اور بچے کو بچانے والا بنے گا۔

آج اس کے ہاتھ سے سگریٹ چھڑا کر کتاب پکڑا دی تو شاید کل وہ اپنے گھر، اپنے شہر اور اپنی قوم کے لیے چراغ بن جائے۔بچوں کو صرف مستقبل کا وارث نہ سمجھیں۔ انہیں مستقبل کا معمار بنائیں۔

کیونکہ قوموں کی تباہی اچانک نہیں آتی۔وہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب ایک نسل اپنے بچوں کی بگڑتی عادات کو "بچوں کی شرارت” کہہ کر نظر انداز کرنا شروع کردیتی ہے۔

آئیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے، اپنے بچوں کو ہوٹلوں کے دھوئیں سے نکال کر علم، کردار، عبادت، ہنر اور روشن مستقبل کی طرف لے چلیں۔

razamarkazi@gmail.com

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-3000 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں: