دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #373
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
خلع (Khula) کا شرعی طریقہ اور اس کی عدت
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: اگست 12, 2026
0
9,317
سوال (Question):
خلع لینے کا کیا طریقہ ہے اور کیا اس کے بعد بھی عدت کرنی پڑتی ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
خلع ایک قسم کا معاہدہ ہے جس میں عورت مال (مہر وغیرہ) چھوڑنے کے عوض شوہر سے طلاق مانگتی ہے، اور شوہر اسے قبول کر کے خلع دیتا ہے۔ شوہر کی رضامندی کے بغیر شرعاً خلع نہیں ہوتا۔ خلع واقع ہونے پر ‘طلاق بائن’ پڑ جاتی ہے، اور عورت پر طلاق کی عدت (تین حیض) گزارنا فرض ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
ایسی کمپنی میں کام کرنا جہاں شراب کا کوئی کام ہوتا ہو کیسا ہے ؟
Read Fatwa
5
فاسق کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم از علامہ مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
5
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
33
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
23
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
49