لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

عورت کا بغیر محرم کے حج یا عمرہ کا سفر

کیا کوئی عورت تنہا یا عورتوں کے قافلے کے ساتھ بغیر محرم کے حج یا عمرہ کے لیے جا سکتی ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شریعت میں عورت کے لیے محرم (شوہر، باپ، بیٹا، بھائی وغیرہ) کے بغیر شرعی سفر (تقریباً 78 کلومیٹر یا اس سے زیادہ) کرنا حرام ہے۔ عورتوں کے گروپ کے ساتھ بھی محرم کے بغیر حج یا عمرے کا سفر فقہ حنفی میں ناجائز اور گناہ ہے، اگرچہ حج ادا ہو جائے گا۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات