بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1522 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اعتکاف کی حالت میں فون پر کاروبار کے تعلق سے باتیں کرنا کیسا ہے؟
الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب معتکف (یعنی اعتکاف کرنےوالا) کا مسجد میں ضرورتاً بغیر موباٸل کے جاٸز اور مباح باتیں کرنا جائز ہے ، اسی طرح ضرورتاً موباٸل پر کال یا میسیج کے ذریعے جاٸز اور مباح باتیں کرنا بھی جائز ہے ، بشرطیکہ اس سے کسی نمازی کی نماز یا اور دیگر عبادات میں خلل واقع نہ ہوتا ہو ، اور موباٸل کی رنگ ٹون (بیل) بھی ایسی ہو کہ نماز و عبادت میں خلل واقع نہ ہو اور نہ ہی رنگ ٹون گانے باجے پر مشتمل ہو، اور بہتر یہ ہے کہ موبائل رنگ ٹون کے بجائے ساںٔلینٹ موڈ میں رکھا جائے۔ اور جب تک سخت ضرورت درپیش نہ ہو موباٸل کا استعمال نہ کیا جاۓ ، فناۓ مسجد موبائل استعمال کرنا انسب و اولی ہے۔ کیونکہ فی زماننا ہمارے یہاں کے اکثر معتکفین کا موباٸل استعمال کرنے کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ بلاضرورت دوست و احباب اور دیگر لوگوں سے فضول گپ شپ کرتے رہتے ہیں ، اس کی شریعت مطہرہ میں قطعاً اجازت نہیں ہے۔ اور یہ اعتکاف کی روحانیت کے بھی خلاف ہے ، البتّہ دینی کاموں کے لئے موباٸل استعمال کرنے میں شرعاً حرج نہیں.. اور اگر کاروباری معاملات فون پر حل ہو جائے تو مذکورہ بالا قیودات کی روشنی میں بات کرنے میں حرج نہیں.. ھکذا فی احکام التراویح والاعتکاف ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــہ :مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-1522
تصدیق شدہ