بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1529 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی نے اپنی بیوی کو کہا اگر تم نے جھوٹ بولا تو تمہیں طلاق ہےتو کیا حکم ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص بولے اپنی بیوی کو اگر تم نے جھوٹ بولا تو تمہیں طلاق ہے ۔ بعد میں پچھتاتا ہے اور دل ہی دل میں توبہ اور پشیمان بھی ہے۔۔۔کیا کوئی طریقہ ہے یہ الفاظ واپس لینے کا۔۔۔۔کہ اگر وہ جھوٹ بولے بھی تو شریعتن طلاق نہ ہو۔۔۔ الجواب واضح رہے کہ طلاق اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کرکے دی جائے تو شرط پوری ہونے پر طلاق واقع ہو جائے گی، چاہے وہ شرط غلطی سے پوری ہوجائے یا جان بوجھ کر پوری ہو، اور طلاق کو ایک مرتبہ کسی شرط کے ساتھ معلق کر دینے کے بعد شوہر کو واپس لینے کا اختیار نہیں ہوتا، لہذا وہ طلاق بدستور اس شرط کے ساتھ معلق رہے گی اور شوہر کی اجازت دے دینے کے بعد بھی شرط ختم نہیں ہوگی، بلکہ جب بھی آپ کی بیوی سے وہ شرط پوری ہوگی تو آپ کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی، لہذا آپ کی بیوی کو طلاق سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آئندہ اس کام سے بالکل اجتناب کرے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ