بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-43 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جی ہاں، مرحومین کو ایصالِ ثواب کے لیے ان کی طرف سے نفلی قربانی کرنا بالکل جائز اور باعثِ اجر ہے۔ اگر میت نے وصیت نہیں کی تھی اور آپ نے اپنی خوشی سے کی ہے، تو اس کے گوشت کا حکم عام قربانی جیسا ہے (خود کھائیں، رشتہ داروں اور غریبوں کو بانٹیں)۔ اگر میت کی وصیت پر کی ہے تو سارا گوشت غریبوں میں بانٹنا صدقہ کرنا واجب ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ