لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

قربانی کرنے والے کے لیے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم

جو شخص قربانی کر رہا ہو، کیا اس کے لیے ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد بال کٹوانا منع ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جس شخص کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو، اس کے لیے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر اپنی قربانی کا جانور ذبح ہونے تک جسم کے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ یہ حکم واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، اگر کسی نے کاٹ لیے تو کوئی گناہ نہیں اور قربانی ہو جائے گی۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات