بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2729 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عنوان حضرت میرا سوال ہے کہ عید کی نماز گھر پر قائم کر سکتے ہیں یا نہیں محمد ذیشان حیدرعید کی نماز گھر پر قائم کر سکتے ہیں یا نہیں از محمد محفوظ عالم رضوی
باسمہ تعالی وتقدس الجواب بعون الملک الوہاب عید کی نماز ادا کرنے کے شرائط اور جمعہ کی نماز ادا کرنے کے شرائط تقریبا یکسا ہے چنانچہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں :”عیدین کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ انہیں پر جن پر جمعہ واجب ہے اور اس کی ادا کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے لئے ہیں ” (بہار شریعت جلد اور حصہ چہارم صفحہ 779) تو جس طرح سے جمعہ شعائر اسلام اور جامع جماعات ہے اسی طرح عیدین بھی شعائر اسلام اور جامع جماعات ہے اور جس طرح گھر پر جمعہ قائم کرنے کی اجازت نہیں اسی طرح عیدین کی نماز کی بھی اجازت نہیں ہے چنانچہ فتاوی فقیہ ملت میں ہے :”عیدین اور جمعہ کی نماز کے لئے شرط ہے کہ خود سلطان اسلام پڑھائے یا اس کا نائب یا اس کا ماذون اور جہاں سلطان اسلام نہ ہو وہاں اعلم علمائے بلد اس کا قائم مقام ہے ” (فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 251) البتہ عید کے اگر عید پڑھنے کا موقع میسر نہ آے تو فقہاے کرام نے نماز چاشت ۴ رکعت ادا کرنے کا حکم عطا فرمایا ہے ۔ لہذا ایسی صورت حال میں اپنے گھروں میں نماز چاشت ادا کریں ۔۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ :محمد محفوظ عالم رضوی علیمی (کولکاتا)اعتکاف کے فضائل و احکام اور مسائل ماخوز از بہار شریعت
روزے کی حالت میں آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے یا نہیں ؟
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ