لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

طلاق والی عورت عدت میں کہاں رہے گی؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

طلاق والی عورت عدت میں کہاں رہے گی؟

مطلقہ یعنی طلاق والی عورت عدت کہاں گزارے گی؟ سائل: نور شاہ. عبد الخالق نگر مالیگاؤں  الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب طلاق کے بعد عورت اپنی عدت ایسی جگہ گزارے گی جہاں اسے مکمل طور پر تحفظ ہو، کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو۔ یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ کہاں عدت گزارنا چاہتی ہے۔ مطلقہ یا بیوہ عورت کو عدت کے دوران بلاعذر شرعی گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ کسی وجہ سے شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل ہو تو عورت اپنے میکے یا کسی دوسرے گھر میں بھی عدت گزار سکتی ہے۔ بہتر ہے مطلقہ شوہر کے اسی گھر میں عدت گزارے جہاں طلاق کے وقت اس کی رہائش تھی تاکہ رجوع کی کوئی سبیل بن سکتی ہو تو اس کا احتمال رہے۔ کسی شدید ضرورت یا پریشانی کے بغیر شوہر کے گھر کو نہ چھوڑے۔ رجوع نا ہونے کی صورت میں عدت مکمل ہونے پر عورت اس نکاح سے آزاد ہو جاتی ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور غیرمحرم ہو جاتے ہیں، تب شوہر کا گھر چھوڑنا لازم ہو جاتا ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات