بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1518 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
دو معتبر گواہ طلاق کی گواہی دیں تو قٙسٙم کے ساتھ شوہر کاطلاق سے انکار غیر معتبر ہے
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید کہتا ہے۔ بکر نے ہندہ کو طلاق دی ہے اور طلاق دیتے ہوئے چار پانچ حضرات نے اپنے کانوں سے سنا ہے اور بکر کا کہنا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے زید کہتا ہے بکر نے طلاق دی ہے تو بکر نے مسجد میں جا کر قرآن مجید کو اپنے سر پر اٹھاکر قسم کھائی ہے میں نے طلاق نہیں دی ہے اور ہندہ کا بھی یہی کہنا ہے مجھے طلاق نہیں دی ہےتو عرض یہ ہے طلاق ہوگی یا نہیں؟ زید کا کہنا صحیح ہے یا بکر کا؟ اسکا جواب تفصیل سے عنایت فرمایئں مہربانی ہوگی ۔ سائل محمد واصف القادری پلیا کلاں کھیری لکھیم پور ۔ الجوابــــــــــــــــــــــ زید اور ان چار پانچ حضرات میں اگر دو ایسے گواہ ہوں جن کی گواہی نظرِ شرع میں قابلِ قبول ہو اور جو اس کی گواہی دیں کہ بکر نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو ان کی گواہی سے بکر کی بیوی کو طلاق دینا ثابت ہوجائے گا اور زید کا مسجد میں جاکر قرآن پاک سر پر اٹھا کر قسم کھاکر طلاق دینے سے انکار کرنا کچھ فائدہ مند نہ ہوگا۔ یوں ہی اس کی بیوی کا طلاق سے انکار بالکل نہ سنا جائے گا اور اگر ان لوگوں میں دو قابلِ قبول گواہ نہیں تو قسم کے ساتھ زید کا انکار معتبر ہوگا۔ حدیث شریف میں ہے: "البینة علی المدعی والیمین علی من انکر”۔ صدر الشریعہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "ان کے علاوہ دیگر معاملات میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی معتبر ہے جس حق کی شہادت دی گئی ہو وہ مال ہو یا غیر مال مثلاً نکاح، طلاق، عتاق، وکالت کہ یہ مال نہیں۔” (بہار شریعت ح١٢ص٩۴١) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢۵/اپریل ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ