بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1592 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بیوی کا بیان ہے کہ شوہر نے تین طلاق دی اور شوہر کو تعداد یاد نہیں تو کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی منکوحہ جو کہ آسیب زدہ ہے اپنے شوہر سے فون پر بات کر رہی تھی جس وقت وہ بات کر رہی تھی اس وقت بھی وہ آسیبی خلل سے دوچار تھی باتوں باتوں میں دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فون پر ہی زید نے اپنی منکوحہ کو طلاق دے دی،زید کی منکوحہ کا کہنا ہے کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں، جب کہ زید کا کہنا ہے کہ میں نے طلاق تو دی ہے مگر یہ یاد نہیں کہ کتنی دی ہے لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ بیان فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ المستفتی محمد ارقم مقام و پوسٹ جمدا شاہی بستی الجواب: صورت مسئولہ میں اگر زید کو یہ یقین یا ظن غالب ہے کہ اس نے تین طلاق نہیں دی ہے تو وہ عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے، یعنی گواہوں کے سامنے مثلاً یہ کہدے کہ میں نے اپنی زوجہ فلانہ کو واپس لیا۔ اور اگر زید کو اس بارے میں شک ہے کہ تین طلاق دی ہے یا کم تو اگرچہ شک کی صورت میں تین طلاق کا حکم نہ دیا جائے گا مگر اس کے لیے احتیاط یہی ہے کہ تین طلاق مان کر بغیر حلالہ اس سے رجعت یا دوبارہ نکاح نہ کرے، کیوں کہ اگر واقعةً اس نے تین طلاق دی ہوگی تو اب سے وطی کرنا زنا کاری کرنا ہوگا اور اس وطی سے پیدا ہونے والے لڑکے ولد الحرام ہوں گے _ والعیاذ باللہ تعالی _ اس لیے احتیاط یہی ہے کہ تین طلاق مانے۔ اور شوہر کے شک کی صورت میں اگر بیوی کو یقین ہے کہ اس نے تین طلاق دے دی ہے اور پھر بھی رجعت کرلیا تو عورت سے خلع وغیرہ جس طرح بن پڑے وہ شوہر سے رہائی حاصل کرے اور اگر وہ کسی طرح چھوڑنے پر رضامند نہیں ہوتا تو اس کو اپنے اوپر قابو نہ دے/ اور اگر وہ زبردستی کرے تو دل سے وطی پر راضی نہ ہو، پھر سارا وبال شوہر پر ہوگا۔ در مختار میں ہے: "وَلَوْ شَكَّ أَطَلَّقَ وَاحِدَةً أَوْ أَكْثَرَ بَنَى عَلَى الْأَقَلِّ۔” علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "(قَوْلُهُ بَنَى عَلَى الْأَقَلِّ) أَيْ كَمَا ذَكَرَهُ الْإِسْبِيجَابِيُّ، إلَّا أَنْ يَسْتَيْقِنَ بِالْأَكْثَرِ أَوْ يَكُونَ أَكْبَرَ ظَنِّهِ. وَعَنْ الْإِمَامِ الثَّانِي إذَا كَانَ لَا يَدْرِي أَثْلَاثٌ أَمْ أَقَلُّ يَتَحَرَّى؛ وَإِنْ اسْتَوَيَا عَمِلَ بِأَشَدِّ ذَلِكَ عَلَيْهِ؛ أَشْبَاهٌ عَنْ الْبَزَّازِيَّةِ قَالَ ط: وَعَلَى قَوْلِ الثَّانِي اقْتَصَرَ قَاضِي خَانْ؛ وَلَعَلَّهُ لِأَنَّهُ يَعْمَلُ بِالِاحْتِيَاطِ خُصُوصًا فِي بَابِ الْفُرُوجِ. اهـ. قُلْت: وَيُمْكِنُ حَمْلُ الْأَوَّلِ عَلَى الْقَضَاءِ وَالثَّانِي عَلَى الدِّيَانَةِ۔” (رد المحتار مع الدر المختار ج۴ ص ۵٠٨ ، ۵٠٩) حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "اگر اس میں شک ہے کہ ایک دی ہے یا زیادہ تو قضاءً ایک ہے دیانةً زیادہ۔” (بہار شریعت ح ٨ص١٧٣) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "اگر خود زوجہ کے سامنے اُسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا، اور گواہ عادل نہیں ملتے، تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے، اگرچہ اپنا مہر چھوڑکر، یا اور مال دے کر۔ اور اگر وُہ یُوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بَن پڑے اس کے پاس سے بھاگے، اور اُسے اپنے اُوپر قابو نہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضی ہو ۔ پھر وبال اس پر ہے۔ لایکلّف ﷲ نفسا الا وسعھا۔” (فتاوی رضویہ ج۵ ص٦۵۴) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی۔٢٧/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ//٣١/مارچ ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ