محبت کے نام پر حرام تعلقات: نوجوان نسل کہاں جا رہی ہے؟
آج کا دور سہولتوں کا دور ہےمگر اسی کے ساتھ آزمائشوں کا دور بھی ہے۔ ہاتھ میں موجود ایک چھوٹا سا موبائل پوری دنیا کو انسان کی انگلیوں تک لے آیا ہے۔ رابطے آسان ہوئے فاصلے سمٹ گئے۔مگر افسوس کہ حیا، عفت اور پاکیزگی کی سرحدیں بھی بہت سے لوگوں کے لیے کمزور ہوتی جارہی ہیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل کے درمیان غیر محرم سے بے تکلف گفتگو، خفیہ چیٹنگ، فون کالز، ملاقاتیں اور جذباتی تعلقات کو ’’محبت‘‘ کا خوبصورت نام دے کر معمول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یہ کیسا دور آگیا ہے کہ جن گلیوں میں کبھی بزرگوں کی دعائیں، بچوں کی آوازیں اور اذان کی صدائیں سنائی دیتی تھیں، انہی گلیوں کے گوشوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خفیہ ملاقاتوں میں مبتلا نظر آنے لگے ہیں۔ بعض جگہ معاملہ صرف بات چیت یا دوستی تک محدود نہیں رہتا بلکہ بوس و کنار جیسی کھلی بے حیائی تک پہنچ جاتا ہے۔
والدین اپنی اولاد کو اس لیے نہیں پالتے کہ وہ جوان ہوکر محلے کی گلیوں میں چھپ چھپ کر غیر محرم کے ساتھ وقت گزارے۔
محلہ صرف اینٹ، پتھر اور مکانوں کا نام نہیں۔محلہ ایک اخلاقی ماحول بھی ہوتا ہے۔اگر نوجوانوں کو گلیوں، سنسان مقامات یا گھروں کے اطراف میں خفیہ ملاقاتوں کا موقع مل رہا ہے تو محلے کے بڑوں، والدین اور ذمہ دار افراد کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہر محبت جائز ہے؟ کیا کسی کا دل کسی کی طرف مائل ہوجائے تو شریعت کی حدود ختم ہوجاتی ہیں؟ کیا موبائل کی اسکرین کے پیچھے ہونے والی گفتگو گناہ نہیں رہتی؟ ہرگز نہیں!
اسلام محبت کا دشمن نہیں، بلکہ محبت کو پاکیزہ راستہ عطا کرنے والا دین ہے۔ اسلام نے مرد و عورت کے فطری جذبات کو تسلیم کیا ہے، مگر ان جذبات کی تسکین کے لیے نکاح کا پاکیزہ راستہ مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر محرم کے ساتھ ایسے تعلقات قائم کرنا جو شہوت، فتنے یا گناہ کا ذریعہ بنیں، شریعت کی حدود سے تجاوز ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰى إِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا
’’اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔‘‘
غور کیجیے! قرآن نے صرف زنا سے منع نہیں فرمایا بلکہ زنا کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا۔ اس میں وہ تمام راستے شامل ہیں جو انسان کو آہستہ آہستہ حرام کی طرف لے جاتے ہیں۔
محبت یا گناہ کا خوبصورت نام؟
آج ایک لڑکا لڑکی سے کہتا ہے: ’’ہم صرف دوست ہیں۔‘‘ پھر دوستی روزانہ کی گفتگو میں بدلتی ہے، گفتگو جذباتی وابستگی میں، وابستگی خفیہ ملاقاتوں میں اور کبھی یہی تعلق بڑے گناہ تک پہنچ جاتا ہے۔
شروع میں انسان کہتا ہے:
’’ہم صرف بات کرتے ہیں۔‘‘
پھر کہتا ہے:’’ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔‘‘ پھر کہتا ہے: ’’ہم شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ اور بعض اوقات انجام ایسا ہوتا ہے جس کے بعد نہ عزت باقی رہتی ہے، نہ اعتماد، نہ خاندان کا سکون۔
شیطان انسان کو گناہ کی طرف ایک ہی قدم میں نہیں دھکیلتا، بلکہ چھوٹے چھوٹے قدموں کے ذریعے بڑے گناہ تک پہنچاتا ہے۔
اسی لیے قرآن نے فرمایا:
وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ
’’اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔
موبائل: نعمت بھی، آزمائش بھی
موبائل بذاتِ خود نہ حرام ہے نہ حلال اس کا استعمال اسے خیر یا شر کا ذریعہ بناتا ہے۔
ایک نوجوان کے ہاتھ میں موبائل قرآن کی تلاوت، علمِ دین، مفید تعلیم اور اچھے رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے، اور یہی موبائل اسے فحش تصاویر، غیر ضروری چیٹنگ، خفیہ تعلقات اور گناہ کی دنیا میں بھی لے جاسکتا ہے۔
آج ’’آن لائن محبت‘‘ ایک ایسا راستہ بن چکی ہے جس میں انسان سامنے والے کے خاندان، کردار اور حقیقت سے واقف ہوئے بغیر جذباتی طور پر وابستہ ہوجاتا ہے۔
یاد رکھیے!
ہر وہ تعلق جو والدین، خاندان اور معاشرے سے چھپانا پڑے، اس کے بارے میں انسان کو اپنے ضمیر اور شریعت دونوں سے سوال کرنا چاہیے۔
نگاہ کی حفاظت، دل کی حفاظت ہے
اسلام نے ابتدا ہی سے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ
’’مسلمان مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘
اور اگلی آیت میں مسلمان عورتوں کو بھی نگاہوں اور پاک دامنی کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ حکم صرف پرانے زمانے کے لیے نہیں، بلکہ آج کے موبائل، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
والدین! صرف موبائل چھین لینا کافی نہیں ۔ اگر اولاد غلط راستے پر جارہی ہے تو صرف ڈانٹنا، مارنا یا موبائل چھین لینا ہمیشہ کافی نہیں ہوتا۔
والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا ہوگا۔ انہیں اعتماد دینا ہوگا، ان کی بات سننی ہوگی، ان کے جذبات کو سمجھنا ہوگا اور محبت کے ساتھ حلال و حرام کا شعور دینا ہوگا۔
بچے کو اگر گھر میں محبت، اعتماد اور دینی تربیت ملے گی تو وہ باہر کی مصنوعی محبتوں کا شکار ہونے سے زیادہ محفوظ رہے گا۔
والدین کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کے بچے کن لوگوں سے رابطے میں ہیں، کس قسم کا مواد دیکھتے ہیں اور ان کے ذہنی و اخلاقی رجحانات کس طرف جارہے ہیں۔ نگرانی ضرور ہو، مگر حکمت اور تربیت کے ساتھ۔
اے نوجوانو !! جس شخص سے تم راتوں کو چھپ چھپ کر بات کرتے ہو، کیا تم اسے اپنے والدین کے سامنے اسی طرح اپنا تعلق بتاسکتے ہو؟ جس تصویر کو تم سب سے چھپا کر رکھتے ہو، کیا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے گھر والوں کے سامنے آجائے؟
جس ملاقات کو تم دنیا سے چھپا رہے ہو، کیا تم اسے اللہ تعالیٰ سے بھی چھپا سکتے ہو؟ یاد رکھو! انسان لوگوں سے چھپ سکتا ہے، اللہ تعالیٰ سے نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ
’’وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے۔‘
*اگر محبت سچی ہے تو راستہ نکاح ہے*
کسی لڑکے اور لڑکی کے درمیان پسند پیدا ہوجانا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ حرام تعلق قائم کریں۔ اگر واقعی نکاح کا ارادہ ہے تو خاندان کے بڑوں کو اعتماد میں لیا جائے، شرعی طریقے سے رشتہ بھیجا جائے اور نکاح کے پاکیزہ راستے کو اختیار کیا جائے۔ محبت کو حرام راستے پر چلانے کے بجائے حلال راستہ اختیار کرنا ہی عزت، برکت اور سکون کا ذریعہ ہے۔
*اور اگر گناہ ہوچکا ہے؟*
اسلام مایوسی کا دین نہیں۔
اگر کوئی شخص ناجائز تعلق میں مبتلا ہوچکا ہے تو اسے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اب واپسی کا راستہ بند ہوگیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ
’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔‘
سچی توبہ کیجیے، حرام تعلق ختم کیجیے، گناہ کے اسباب اور راستوں کو بند کیجیے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیے اور اپنی زندگی کو پاکیزگی کے راستے پر لے آئیے۔
معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ
ہم صرف نوجوانوں کو الزام دے کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ گھر، والدین، تعلیمی ادارے، علماء، اساتذہ اور پورا معاشرہ اپنی اپنی ذمہ داری رکھتا ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو صرف یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ’’یہ حرام ہے‘‘ بلکہ یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ کیوں حرام ہے، اس کے نقصانات کیا ہیں، اور حلال راستہ کیا ہے۔ نوجوانوں کو مقصدِ زندگی دیجیے، دین سے جوڑیے، اچھی صحبت فراہم کیجیے، نکاح کو آسان بنائیے، اور موبائل و سوشل میڈیا کے استعمال میں اخلاقی تربیت کیجیے۔
کیونکہ نوجوان صرف مستقبل نہیں ہوتے۔ نوجوان ہی آج کا معاشرہ بھی ہیں۔
محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے، مگر ہر تعلق محبت کے نام پر پاکیزہ نہیں ہوجاتا۔
جو تعلق انسان کو اللہ سے دور کرے، حیا کو کمزور کرے، گناہ کی طرف لے جائے اور خاندان سے چھپانا پڑے، اسے محبت کا نام دے کر درست نہیں بنایا جاسکتا۔ حرام تعلق وقتی طور پر دل کو خوش کرسکتا ہے، مگر حقیقی سکون اللہ کی اطاعت میں ہے۔
آئیے! اپنے گھروں میں حیا واپس لائیں، اپنی اولاد کو محبت کے ساتھ دین سکھائیں، نوجوانوں کو حلال محبت یعنی نکاح کا راستہ دکھائیں اور معاشرے کو اس خاموش فتنے سے بچانے کے لیے سنجیدہ کوشش کریں۔
کیونکہ آج اگر ہم نے نوجوان نسل کے ہاتھ سے حرام تعلقات کی زنجیر نہ توڑی، تو کل بہت سے گھر ٹوٹنے، رشتے بکھرنے اور نسلیں متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
محبت کو گناہ کا راستہ نہیں، نکاح کا راستہ بنائیے؛ یہی اسلام کی پاکیزگی اور معاشرے کی سلامتی کا راستہ ہے۔
المختصر ۔۔ اگر کسی محلے میں نوجوانوں کی ایسی سرگرمیاں سامنے آتی ہیں تو اسے تماشہ نہ بنایا جائے نہ لوگوں میں چرچا کیا جائے، نہ ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر پھیلایا جائے۔ بلکہ حکمت، ستر پوشی اور اصلاح کے ساتھ معاملہ حل کیا جائے۔
ضرورت ہو تو والدین کو مطلع کیا جائے، معتبر بزرگ یا ذمہ دار عالمِ دین درمیان میں آئیں، اور نوجوانوں کو عزت کے ساتھ غلط راستے سے واپس لانے کی کوشش کی جائے۔ یاد رکھیں
کسی کی عزت بچانا اور کسی کو گناہ سے بچانا دونوں اصلاح کا حصہ ہیں۔
razamarkazi@gmail.com