اپنے ایمان کی فکر سے غافل ہو کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان پر تبصرہ کرنا علم نہیں بلکہ جہالتِ مرکب اور سوء فہم کا مظہر ہے۔
جن نفوسِ قدسیہ نے حضورِ اقدس ﷺ کی صحبتِ بافیض پائی۔ جنہیں براہِ راست سرچشمۂ وحی سے دین حاصل کرنے کا شرف نصیب ہوا۔ جنہوں نے اپنے جان و مال کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں نثار کیا اور پھر دینِ متین کو نسل در نسل ہم تک پہنچایا۔ اُن اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم کے ایمان و اخلاص کو اپنی ناقص عقل اور محدود فہم کے میزان پر تولنے کی جسارت آخر کس علمی اہلیت اور کس شرعی حجت کی بنیاد پر ہے؟
یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم محض تاریخ کی شخصیات نہیں بلکہ حاملانِ دین، رواۃِ شریعت اور اصحابِ مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ ہم تک قرآن و سنت کی جو امانت پہنچی ہے اُس کی نقل و روایت میں انہی مقدس نفوس کا بنیادی کردار ہے۔ لہٰذا اُن کی عدالت، دیانت اور ایمان کو اپنی خواہشِ نفس اور ناقص قیاس کی کسوٹی پر پرکھنا درحقیقت اپنے علمی قصور اور فکری انحراف کا اعلان ہے۔
ذرا خلوتِ فکر میں اپنے گریبان کا جائزہ لیں! جن نفوسِ مبارکہ کے بارے میں ربِّ کریم نے اپنی رضا کا اعلان فرمایا اُن کے ایمان پر زبان درازی سے قبل اپنے ایمان کی فکر کریں۔ جن کے فضائل قرآن و حدیث میں اظہر من الشمس ہیں اُن کے مقام و مرتبہ پر اپنی ناقص رائے مسلط کرنا علم نہیں بلکہ جرأتِ بے جا اور سوء ادب ہے۔
افسوس کہ آج چند اوراق پڑھ کر بعض لوگ خود کو میزانِ حق سمجھنے لگتے ہیں اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان و کردار پر حکم لگانے کی جسارت کرتے ہیں۔ یاد رکھیں! علم انسان کو متکبر نہیں بناتا بلکہ ادب سکھاتا ہے۔ جس دل میں معرفتِ مقامِ صحابہ نہ ہو اور جس زبان پر تعظیمِ اصحابِ رسول نہ ہو اُس علم کی کثرت بھی انسان کو بے ادبی سے نہیں بچا سکتی۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے ایمان کا محاسبہ کریں۔ اُن کے مقام پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی علمی حیثیت پہچانیں۔ اور اُن کی شان میں کلام کرنے سے پہلے زبان کو ادب اور دل کو تقویٰ کا پابند بنائیں۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کے ایمان کا محاسبہ کرتے کرتے انسان اپنی ہی عاقبتِ بد کا سامان کر بیٹھے۔
ہم اہلِ سنت کے نزدیک صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت، تعظیم اور توقیر کوئی رسمی شعار نہیں بلکہ عقیدہ و مسلک کا بنیادی امتیاز ہے۔ لہٰذا جو زبان اُن مقدس نفوس کے بارے میں بے احتیاطی کرے اُسے سب سے پہلے اپنی زبان کی اصلاح اور اپنے باطن کی تطہیر کی فکر کرنی چاہیے۔
حدِ ادب سے تجاوز علم نہیں، جہالت ہے۔
مقامِ صحابہ میں گستاخی تحقیق نہیں، سوء ادب ہے۔
اور اپنے ایمان سے غافل ہو کر صحابۂ کرام کے ایمان کا محاسبہ کرنا دانائی نہیں، سراسر حماقت ہے۔