لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
تحقیقی مقالہ
5 min read 01 اکتوبر 2026

روضۂ غوثِ اعظم علیہ الرحمہ کا ادب اور ہماری بے توجہی

مرتب و قلم کار: Masail World

روضۂ غوثِ اعظم علیہ الرحمہ کا ادب اور ہماری بے توجہی

روضۂ غوثِ اعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ محض ایک عمارت یا تاریخی مقام نہیں، بلکہ لاکھوں عقیدت مندوں کے لیے محبت، عقیدت اور روحانی وابستگی کا مرکز ہے۔ ایسے مقدس مقام پر حاضری کے ساتھ ادب، سکون، وقار اور خاموشی کا اہتمام بھی ضروری ہے۔

آج افسوس کے ساتھ بعض زائرین میں ایسی بے احتیاطیاں نظر آتی ہیں جو مقام کی عظمت کے شایانِ شان نہیں۔ کوئی بلند آواز سے نعرے لگا رہا ہے، کوئی ہجوم میں دھکم پیل کر رہا ہے، کوئی موبائل کیمرے کے ذریعے اپنی حاضری کو نمائش بنا رہا ہے، اور کہیں جذبات کے نام پر اچھل کود اور شور شرابا بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔محبت اپنی جگہ، مگر محبت کا حسن ادب ہے*

اگر دل میں غوثِ اعظم کی عظمت ہے تو قدموں میں وقار ہونا چاہیے، زبان پر درود و سلام ہونا چاہیے، نگاہوں میں عقیدت اور لہجے میں نرمی ہونی چاہیے۔ نعرہ اگر کسی انتظامی یا مذہبی موقع پر مناسب سمجھا جائے تو بھی اس کی آواز اتنی نہ ہو کہ دوسرے زائرین کی دعا، تلاوت، ذکر یا حاضری میں خلل پڑے۔ بلند آواز سے زیادہ مؤثر پست آواز کا ادب ہے۔*

آہستہ سلام کیجیے، سکون سے دعا کیجیے، درود شریف پڑھتے رہیے اور اپنے اردگرد موجود دوسرے زائرین کے حق کا بھی خیال رکھیے۔ خصوصاً یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زیارت عبادت کے آداب سے خالی کوئی تفریحی سرگرمی نہیں۔ وہاں سیلفی، ویڈیو، شور، قہقہے، غیر ضروری گفتگو اور ایک دوسرے کو دھکیلنے کے بجائے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔

قرآنِ کریم میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ کے ادب کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہے:

﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾

“اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔”

(سورۃ الحجرات: 2)

اگرچہ یہ حکم براہِ راست بارگاہِ رسالت ﷺ کے خاص ادب سے متعلق ہے، لیکن اس سے مقدس مقامات پر آواز، لہجے اور طرزِ عمل میں ادب و وقار کی اہمیت ضرور سمجھ میں آتی ہے۔

بزرگانِ دین کے بارگاہ کی حاضری کا انداز بدلنے کی ضرورت ہے۔ روضۂ غوثِ اعظم پر پہنچ کر ہمیں خود سے چند سوال کرنے چاہئیں:

کیا ہماری آواز سے کسی دوسرے زائر کی دعا متاثر تو نہیں ہو رہی؟

کیا ہم دھکم پیل کرکے کسی بزرگ، بوڑھے یا کمزور زائر کو تکلیف تو نہیں دے رہے؟

کیا ہمارے موبائل،ویڈیو دوسروں کے سکون میں خلل تو نہیں ڈال رہی؟

کیا ہماری حرکات مقام کے وقار کے مطابق ہیں؟

کیا ہم زیارت کے لیے آئے ہیں یا صرف اپنی حاضری دکھانے کے لیے؟

یاد رکھیے! روضہ ہماری آواز سنانے کی جگہ نہیں، اپنے دل کو سنوارنے کی جگہ ہے*۔

*نعرے کی گونج چند لمحوں میں ختم ہوجاتی ہے، مگر ادب کی خوشبو دیر تک باقی رہتی ہے۔*

*اچھل کود سے عقیدت ثابت نہیں ہوتی؛ خاموش آنکھوں کے آنسو، جھکی ہوئی نگاہ، پست آواز اور مؤدبانہ قدم محبت کی زیادہ خوب صورت زبان ہیں۔*

غوثِ اعظم سے محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان کے آستانے پر ان کے اخلاقی پیغام تقویٰ، شریعت کی پابندی، عاجزی، ذکرِ الٰہی اور حسنِ اخلاق کو یاد کیا جائے۔

لہٰذا جب بھی حاضری نصیب ہو، دل میں یہ احساس لے کر جائیں: *“میں ایک مقدس مقام پر ہوں میری ہر حرکت میں ادب ہو، میری ہر آواز میں نرمی ہو، میرے ہر قدم میں وقار ہو، اور میری حاضری کسی دوسرے زائر کے لیے زحمت نہ بنے۔”*

یہی عقیدت کی خوب صورتی ہے، یہی حاضری کا وقار ہے، اور یہی روضۂ غوثِ اعظم پیر پیراں شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے ادب کا عملی تقاضا ہے۔

اہلسنت و جماعت کے علمی فروغ کے لیے اس مضمون کو شیئر فرمائیں