مذہبی پیشواؤں کے القابات — ایک لمحۂ
یہ ہمارے مذہبی اور سماجی زوال کی ایک نہایت افسوسناک علامت ہے کہ ہم نے دین کے اصل جوہر کو چھوڑ کر القابات، نعروں اور خطابات کو ہی دینداری کا معیار بنا لیا ہے۔ آج مذہبی پیشوا کی پہچان اس کے علم، تقویٰ، کردار اور اخلاص سے نہیں بلکہ اس کے نام کے ساتھ جڑے ہوئے لمبے چوڑے القابات سے ہونے لگی ہے۔ گویا دین اب عمل کا نام نہیں رہا، بلکہ تعریفی سابقوں اور لاحقوں کا مجموعہ بن کر رہ گیا ہے۔
ہر گلی، ہر جلسہ، ہر اسٹیج پر القابات کی ایسی بارش ہوتی ہے کہ اصل بات کہیں گم ہو جاتی ہے۔ حضرت، علامہ، مفکرِ اسلام، قائدِ ملت، ترجمانِ شریعت، شیخُ الاسلام جیسے عظیم القابات اس طرح بانٹے جاتے ہیں جیسے یہ کوئی معمولی تمغے ہوں۔ نہ علم کا وزن تولا جاتا ہے، نہ کردار کا معیار، نہ تقویٰ کا امتحان ۔۔ بس آواز بلند ہو، مائیک ہاتھ میں ہو، اور چند عقیدت مند تالیاں بجانے والے ہوں، لقب حاضر!
یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ جن القابات کے اصل حقدار وہ اکابر تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کے لیے کھپا دیں، آج وہی الفاظ ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں جن کے عمل اور گفتار میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ نتیجہ یہ کہ القاب کی وقعت ختم ہو رہی ہے اور دین کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔
سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ القابات نے احتساب کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ جب کسی کو “بڑا” مان لیا جائے تو پھر اس سے سوال کرنا گستاخی قرار پاتا ہے، اس کی غلطی بھی حکمت کہلاتی ہے، اور اس کی لغزش بھی مصلحت بن جاتی ہے۔ یوں شخصیات مقدس ہو جاتی ہیں اور دین پسِ پشت چلا جاتا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے ہمیں ناموں اور خطابات کا نہیں، اعمال اور اخلاق کا مکلف بنایا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے کبھی اپنے لیے لمبے القابات کا مطالبہ نہیں کیا، صحابۂ کرام نے سادگی کو شعار بنایا، اور اکابرینِ امت نے گمنامی میں عظمت پائی۔ آج اگر وہ زندہ ہوتے تو شاید ہمارے اس القابی جنون پر اشکبار ہوتے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم القابات کے سحر سے باہر نکلیں، شخصیت پرستی کو خیر باد کہیں اور دین کو اس کے اصل معیار ۔ علم، عمل، تقویٰ اور اخلاص۔کی بنیاد پر پرکھیں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب مذہبی پیشواؤں کے القابات تو باقی رہیں گے، مگر دین کی روح ہمارے ہاتھوں سے نکل چکی ہوگی۔
اور اگر اب بھی ہم نے نہ سوچا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اس سلسلے میں یہ پہلو اور بھی زیادہ دردناک اور شرمناک ہے، جس پر خاموشی گناہ کے مترادف ہے:
اور اب ذرا اُن اشتہارات، بینروں اور پوسٹروں پر نگاہ ڈالیے جو جلسوں، کانفرنسوں اور نام نہاد دینی پروگراموں کے لیے شائع ہوتے ہیں۔ وہاں ایک اور خطرناک ذہنی انحراف پوری بے حیائی سے نظر آتا ہے۔
نعوذ باللہ! رسولِ اکرم ﷺ کا مبارک نام باریک، چھوٹے حروف میں، ایک کونے میں—اور اس کے نیچے یا اوپر کسی مقرر، خطیب یا علامہ صاحب کا نام موٹے، بڑے، شوخ حروف میں پوری شان سے جگمگاتا ہوا!
یہ صرف ڈیزائن کی غلطی نہیں، یہ عقیدے کی خرابی ہے۔ یہ صرف بے ادبی نہیں، یہ دلوں کے بگڑنے کی علامت ہے۔
جس قوم کی آنکھوں میں نبی ﷺ کا نام چھوٹا اور انسانوں کے نام بڑے ہو جائیں، سمجھ لیجیے کہ وہاں محبتِ رسول دعوے میں رہ گئی ہے، حقیقت میں نہیں۔
یہ سوال چیخ چیخ کر پوچھتا ہے: کیا ہم نے رسول اللہ ﷺ کو صرف تبرک کے لیے رکھ چھوڑا ہے؟ کیا آپ ﷺ کا ذکر اب محض رسمی آغاز کے لیے ہے، جبکہ اصل مرکز اسٹیج، کیمرہ اور شہرت بن چکے ہیں؟
افسوس! آج بعض لوگوں کے نزدیک جلسے کی کامیابی نبی ﷺ کے پیغام سے نہیں، بلکہ فلاں “بڑے نام” کی موجودگی سے مشروط ہو چکی ہے۔
گویا اگر مقرر نہ آئے تو پروگرام پھیکا، لیکن اگر نبی ﷺ کا ذکر مختصر ہو جائے تو کوئی مسئلہ نہیں!
یہ وہ مقام ہے جہاں القابات صرف لفظ نہیں رہتے، بلکہ نبی ﷺ کے مقابل انسانوں کو لا کھڑا کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں—اور یہی سب سے بڑا فتنہ ہے۔
یاد رکھیے!
جس مجلس میں رسول اللہ ﷺ کا نام سب سے نمایاں نہ ہو،
جس اشتہار میں آپ ﷺ کا ذکر سب سے روشن نہ ہو،
جس دل میں آپ ﷺ کی عظمت سب سے بلند نہ ہو—
وہ مجلس، وہ اشتہار، وہ دل دین کا نہیں، نفس کا نمائندہ ہے۔
آج ہمیں سختی سے خود احتسابی کرنی ہوگی۔
القابات گھٹانے ہوں گے، عظمتِ رسول ﷺ بڑھانی ہوگی۔
ناموں کے فونٹ چھوٹے کرنے ہوں گے، نسبتِ محمدی ﷺ کو بڑا کرنا ہوگا۔
ورنہ خدا کی قسم!
یہ القابی دین، یہ اشتہاری اسلام، یہ اسٹیجی تقدس۔
ہمیں رسول ﷺ سے دور اور شخصیات کے قریب لے جا رہا ہے۔
یہ صرف لمحۂ فکریہ نہیں…
یہ لمحۂ توبہ ہے۔
razamarkazi@gmail.com