فکرموت انسان کی دنیا و آخرت سنوار دیتی ہے
انسان کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ وہ نفع و منفعت کومحبوب رکھتا ہے اور نقصان وضر رکو مبغوض، آرام و راحت کو پسند کرتا ہے اور رنج و تکلیف کو ناپسند سکون واطمینان اسے اچھا لگتا ہے اور رنج و ملال برا، آسائشوں کے قریب جاتا ہے اور مصیبتوں سے دور ، غرض کہ ہر انسان کی فطری خواہش اور تمنا ہوتی ہے کہ وہ دنیاوی زندگی کے لیل و نہار پر تعیش اور بڑھا پا سکون و اطمینان کے ساتھ گزارے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر وہ صبح سے شام اور شام سے رات کر دیتا اور مسلسل جد و جہد کرتا ہے تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ آسائشیں حاصل کر سکے۔
لیکن انسان یہ سوچ کر متفکر ہی نہیں ہوتا کہ یہ نفس کو تسکین رساں آسائشیں ، آنکھوں کو مسحور کرنے والی رنگینیاں، ذہن کو مخمور کر دینے والے چین وسکون، اطلس و کم خواب کے مصنوعی لباس و فراش، آسمان سے باتیں کرتے محلات، ہواؤں کی طرح برق رفتاری سے چلتے سیارات، یہ ساری آرام دہ اشیا ایک دن زمیں بوس ہو جائیں گی ، ان کا نام ونشان بھی باقی نہ رہے گا۔
قدرت خداوندی میں یہ بات تھی کہ انسان ان نعمتوں اور آسائشوں میں اس قدر منہمک اور مشغول ہو جائے گا کہ وہ ’’وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٍ وَّاَبْقٰی ‘‘کے فرمان کو فراموش کر دے گا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے’’ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ “ کا صدق آمیز ارشاد سنا کر سارے انسانوں کو باخبر کر دیا، یہ دنیا ہمیشگی کی جگہ نہیں ۔ اے انسان ! کسی کسی دن تجھے اپنی یہ محبوب دنیا کو چھوڑنا ہو گا۔اور اگر کوئی اس خام خیال میں ڈوبا ہو کہ آسمان کی بلندیوں میں چلا جائے گا یا تحت الثریٰ میں چلا جائے گا تو اسے موت نہیں آئے گی تو ایسا بالکل بھی نہیں ۔ انسان چاہے دنیا کے کسی کونے میں بھی چلا جائے وہ نگاہ قدرت سے نہیں بچ سکتا۔ کیوں کہ زمین کی ساری گہرائیاںاور آسمان کی ساری بلندیاں اس کی نظر میں یکساں ہیں ۔ ارشاد خداوندی ہے:
أَيْنَ مَا تَكُونُوا يُدْرِ كُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ ،
ترجمہ: تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آئے گی اگر چہ مضبوط قلعوں میں ہو ۔ (کنزالایمان)
یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے اس آیت کو اپنی یادوں کا جز ولا تنفق بنایا، خوشی میں سانے میں غم میں خلوت میں جلوت میں سفر میں حضر میں ، ہر مقام پر اس کو مقدم رکھا۔ انھوں نے کبھی بھی اللہ و رسول کی نافرمانی نہیں کی۔ کیوں کہ موت کی کثرت یاد نے ان کی ساری لذتوں کو نیست و نابود کر دیا۔ سرکار کافرمان عالی شان ہے :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:
اَكْثَرُوا ذِكُرَ هَادِمَ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ.(جامع الترمذی، الحدیث: ۲۲۳۹)
ترجمہ : ( دنیا کی لذتوں کو کھو دینے والی چیز کو کہ جو موت ہے کثرت سے یاد کرو۔ ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ( سورۃ الملک ، آیت : ۲)
ترجمہ: وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہاچھا ہے اور وہی عزت والابخشش والاہے۔(کنز الایمان )
پتہ چلا کہ موت اور زندگی کواس لیے نہیں پیدا کیا گیا کہ دنیا میں انسان کی تخلیق کر دی جائے اور انسان اپنی متعینہ مدت گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو جائے بلکہ اس کی تخلیق تو اس لیے کی گئی ہے کہ جانا جائے کہ کون اللہ کی ر اس کی راہ میں سربسجود ہونے والاہے اور کون سرکشی کرنے والاہے ۔ یہی نہیں بلکہ موت کو مقدم کر کے انسان کو اس بات سے بھی آگاہ کر دیا گیا کہ موت والی زندگی کچھ دنوں کے لیے ہے، اس کے بعد تو بقا ہی بقا ہے۔
(۱)اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
یٰقَوْمِ إِنَّمَا هَذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ( سورۃ المومن ، آیت : ۳۹)
ترجمہ : اے میری قوم یہ دنیا کا جینا تو کچھ برتا ہی ہے اور بے شک وہ پچھلا ہمیشہ رہنے کا گھر ہے۔ (کنز الایمان )
(۲)ایک جگہ یوں فرماتاہے:
وَمَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَآ إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ(سورۂ آل عمران، آیت: ۱۸۵)
ترجمہ: اور دنیا کی زندگی تو یہی دھو کے کا مال ہے ۔( کنز الایمان )
(۳)نیز یہ بھی اسی کا فرمان ہے:
قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقٰی ، وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا( سورۃ النساء، آیت : ۷۷)
ترجمہ : تم فرماد و کہ دنیا کا برتا تھوڑا ہے اور ڈر والوں کے لیے آخرت اچھی اور تم پر تا گے برابر ظلم نہ ہو گا۔ (کنز الایمان )
(۴)یہاں تک کہ اس نے یہ بھی انسانوں کو بتادیا:
وَمَا هَذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهُمْ وَ لَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَالْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
ترجمہ: اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کو د اور بے شک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے کیا اچھا تھا اگر جانتے۔ (کنز الایمان )
اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ بہت ساری ایسی آیتیں بیان فرمائیں، جن میں اس دنیا کی کوئی حقیقت نہیں ۔ انسان کو ایک دن موت آئے گی اور وہ کف افسوس ملتا اس دنیا سے چلا جائے گا۔ یہ دنیا تو بس دھو کے کھیل کود، ایک اور محدود وقت کی جگہ ہے ۔ اور آخرت ہمیشگی ، بقا اور قرار کی جگہ ہے ۔ اس لیے موت کو ہمیشہ یاد رکھ کریں اور اپنے آخرت کو سنوارنے کی ہرممکن کوشش کریں۔
احادیث کریمہ میں یہ بتایا گیا کہ یہ دنیا دار العمل ہے، جتنی نیکی کرنا چا ہو کر لو، جتنا اپنے خدا و رسول عز وجل وصلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنا چاہو کرلو ، جس قدر چاہو عبادتیں لرلو ،کیوں کہ جب دار الجزا کا پہلا دروازہ کھلے گا تو نیکیوں، اچھائیوں اور برائیوں کے سارے دروازے بند ہو جائیں گے۔ نہ کوئی سجدہ قبول کیا جائے گا نہ کوئی رکوع ، نہ کلمہ کام آئے گا نہ کوئی درود۔ اس لیے جو کچھ کرنا ہے زمین کے اوپر کرو ، زمین صرف آرام کرنا ہے یا اپنے کیے کی سزا پانی ہے۔
سرکار دو عالم ﷺ فرماتے ہیں :
الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ.
ترجمہ : دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔(مسلم شریف)
آیات مبارکہ اور احادیث کریمہ سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ یہ دنیا ہمیشگی کی جگہ نہیں ۔ انسان کتنا بڑا ظالم اور بے وقوف ہے کہ جس دنیا میں اسے ایک متعنہ مدت تک رہنا ہے اس کو سنوارنے اور نکھارنے میں اپنی ساری جوانی قربان کر دیتا ہے ۔ اور جہاں اس کو ہمیشہ رہنا ہے اس کے لیے اس وقت پونجی جمع کرتا ہے جب اس کی جوانی مغلوب ہو جاتی ہے، ہاتھ پاؤں کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں نفس اب کسی چیز کی خواہش نہیں کرتا۔
خدارا! موت سے ڈرو ، کیوں کہ جب اس کا وقت آئے گا تو وہ ایک ساعت تاخیر کرے گی اور نہ ایک ساعت تعجیل ۔ اپنی جوانی کو غنیمت جانو ، اور اپنی رب کی خوب خوشنودی کمالو تا کہ کل قیامت کے دن رسوا نہ ہونے پڑے۔
اسی خیال کو لوگوں کے دلوں میں جگانے کے لیے احوال قبر پر ایک بہترین مضمون بڑے ہی آسان پیراے میں آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے ۔ امید ہے کہ اسے خود بھی پڑھ کر اس پر عمل کریں گے اور دوسروں کو بھی اس کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیں گے۔
بارگاہ ایزدی میں دعاگوں ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس رسالے کو قبول فرمائے ۔