درس گاہ غوثیت کے پروردہ فاتحین بیت المقدس
سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ کے عہد میں بیت المقدس کی فتح میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ (561ھ..471ھ) کے مدرسہ قادریہ کا بہت بڑا کردار رہا ہے.. آپ کے مدرسہ قادریہ سے تقریباً 400 سے زائد تعلیمی ادارے منسلک تھے جن کے ذریعے آپ نے امت مسلمہ کی تقریباً کم وبیش نصف صدی سے زائد عرصہ تک علمی و ذہنی اور روحانی تربیت فرمائی.. صلیبی جنگیں، عیاش حکمراں، غافل علماء، جاہل صوفیاء، باطنی و ظاہری فتنے بیک وقت اتنے محاذ پر قائم کرنا یقینا اللہ تعالیٰ کا فضل خاص ہے.. آج بھی اس امر کی ضرورت ہے کہ کچھ مردان حق ایسے ہوں جن کی نگاہ سے زنگ آلود قلوب و اذہان کو جلا عطاء ہو…
سلطان صلاح الدین ایوبی نے جب القدس فتح کیا تو جس لشکر (Army) کے ذریعے بیت المقدس فتح کیا، اس آرمی میں شامل لوگوں کی بھاری اکثریت حضرت شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کے تلامذہ کی تھی۔ گویا آپ کے مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ صرف متہجد(تہجد گزار) ، مجتہد، عابد شب زندہ دار اور علما ہی نہیں تھے بلکہ عظیم مجاہد بھی تھے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کی آدھی سے زائد فوج میں حضور غوث الاعظم علیہ الرحمہ کے عظیم مدرسہ قادریہ کے طلبہ اور کچھ فیصد لوگ فوج وہ تھے جو امام غزالی علیہ الرحمہ کے مدرسہ نظامیہ کے فارغ التحصیل طلبہ تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے چیف ایڈوائزر امام ابن قدامہ المقدسی الحنبلی حضور سیدنا غوث الاعظم کے شاگرد اور خلیفہ ہیں۔ آپ براہِ راست حضور غوث پاک کے شاگرد، آپ کے مرید اور خلیفہ ہیں۔ گویا تاریخ کا یہ سنہرا باب جو سلطان صلاح الدین ایوبی نے رقم کیا وہ سیدنا غوث الاعظم علیہ الرحمہ کا فیض تھا۔
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ نے تقریباً ۳۳ برس مدرسہ قادریہ کو مختلف سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا…
آپ اس کے علاوہ بھی مختلف علاقوں میں جاتے، لیکن مرکز اصلاح و تربیت یہی مدرسہ ٹھیرا، جہاں ۱۳ علوم میں اعلیٰ تعلیم دی جاتی لیکن علم الکلام اور فلسفے کی بے فائدہ بحثیں خارج از نصاب قرار دے دی گئی تھیں۔ ان کی جگہ انھوں نے سات اسلامی اقدار ہر طالب علم کے قلب و نگاہ میں راسخ کرنے کا اہتمام کیا۔ یہ سات بنیادی نکات تھے: (۱) توحید(۲) قضا و قدر کا صحیح مفہوم (۳)حقیقت ایمان(۴) امر بالمعروف ، نہی عن المنکر اور اولی الامر کا حقیقی مفہوم (۵) حقیقت دنیا و آخرت (۶) مقام نبوت و انبیا (۷) حقیقت زہد۔ یہ ارکان تربیت کوئی مجرد نصابی سرگرمی نہیں بلکہ تمام متعلقین کو ان کا عملی پابند بنایا جاتا۔ ساتھ ساتھ انھوں نے پورے عالم تصوف کو اس کی کمزوریوں اور خامیوں سے پاک کرنے کا بِیڑا اُٹھایا۔ بالخصوص ۱۱۵۱ء سے ۱۱۵۵ء تک کے چار سالہ عرصے میں انھوں نے مختلف مسالک و طریقہ ہائے ارادت کو جمع کیا۔ قطب، ابدال، اوتاد اور اولیا جیسی اصطلاحات اسی پورے کام کو منظم کرنے کا عنوان تھیں۔ اس مدرسہ قادریہ میں مختلف علاقوں سے آنے والے طلبہ فیض یاب ہوئے لیکن ان علاقوں سے کہ جن پر دشمن قابض ہوچکے تھے آنے والے طلبہ کو خصوصی طور پر تربیت دے کر اپنے علاقوں میں واپس بھیجا جاتا۔ ان طلبہ میں سے بھی بالخصوص بیت المقدس سے آنے والے طلبہ کو اہمیت دی جاتی۔ یہ طلبہ ’مقادسہ‘ کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔
حضرت سیّد عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی ان تمام سرگرمیوں میں بظاہر اس دور کے بڑے بیرونی خطرات سے کوئی تعارض دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن وہ اس امر پر یکسو تھے کہ افراد و معاشرے کی اصلاح کے بغیر کسی بڑے خطرے کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی شخصیت و مقام کا مطالعہ کرنے والے تمام مؤرخ یہ نتیجہ اخذ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر سلطان صلاح الدین ایوبی کی پشت پر اصلاحِ معاشرہ کی یہ پوری تحریک نہ ہوتی تو وہ کبھی بیت المقدس آزاد نہیں کرواسکتے تھے۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری قوم اور مجاہدین کو جس عظیم الشان انداز سے تیار کیا، اس میں ان کی ایمانی و اخلاقی تربیت بنیاد و ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہاں ہمیں امام غزالی، سیّد عبدالقادر جیلانی، نور الدین محمود زنگی اور صلاح الدین ایوبی علیہم الرحمہ جیسی چار عظیم شخصیات کی جدوجہد ایک سنگم پر یکجا ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ دونوں سپہ سالاروں نے ان دونوں جلیل القدر ہستیوں اور ان کے مخلص شاگردوں کے اثرات و خدمات سے بھرپور استفادہ کیا۔ فقہ حنبلی کی معروف کتاب المُغْنِي کے مؤلف ،موقف الدین ابن قدامہ ہوں یا اپنے زمانے کے معروف مدرس اور واعظ ’ابن نجا‘ دونوں حضرات سیّد عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کے خصوصی شاگرد تھے اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے انھیں اپنا خصوصی مشیر بنایا۔ ان دونوں عظیم شخصیات کی طرح انھوں نے اپنے دور کے تمام دیگر علماے ربانی کی خدمات حاصل کیں۔ قوم کو معصیتوں بھری زندگی سے نکال باہر لانے اور اس میں روح جہاد پھونکنے کا اصل فریضہ انھی مبارک ہستیوں کے ذریعے تکمیل تک پہنچا۔ سلطان صلاح الدین اس حقیقت کا برملا اظہار کیا کرتے تھے کہ ’’میں نے بیت المقدس کو اپنی تلوار سے نہیں ان علماے کرام کے علم و فضل اور رہنمائی کے ذریعے آزاد کروایا ہے‘‘۔(ماہ نامہ عالمی ترجمان القرآن 2015)
آج فلسطین کے حالات دیکھ کر لوگ ہزاروں باتیں کر رہے ہیں… پر اب بھی نگاہ کسی روحانی مربی و مرشد کو تک رہی ہیں …. جس کی تربیت میں رہ کر مسلم نوجوان روح جہاد کی حقیقتوں سے آشنا ہو سکیں …. قلب ونظر و ذہن کی صفائی، ذکر الہی کی ضربیں، ہی میدان جہاد کی ضرب کاری بن کر یہود وھنود کو مٹا کر پرچم اسلام کو بلند کریں گی … . ان شاء اللہ …. پر وہ مرشد ملے کہاں…. ملے تو راقم کو بھی قارئین ضرور بتائیں ……. یا پھر اب امام مہدی علیہ الرحمہ ہی ہوں گے.. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
razamarkazi@gmail.com