ہندہ کو طلاق دیدیا اب وہ سنیہ بننا چاہتی ہے تو نکاح ہوسکتا ہے؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ ۔
صورت مسئولہ میں برتقدیر صدق مستفتی زید کا ہندہ سے نکاح ہی منعقد نہیں ہوا تو طلاق کہاں ہاں ہندہ سے نکاح کرنا اس وقت صحیح ہوگا جب وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اپنے عقائد باطلہ سے سچی توبہ کرکے سنیہ بن جائے اور سوال کے اس حصے سےکہ "ہندہ بھی توبہ کر کے سنیہ بن کر زندگی گزارنا چاہتی ہے” یہ معلوم ہوتا ہیکہ ہندہ نے اپنے عقائد باطلہ سے ابھی تک توبہ نہیں کیا ہے بلکہ شادی کرنے کے لئے ایسا کرنا چاہتی ہے اور بارہا کا تجربہ ہے کہ وہابی لڑکیاں اور لڑکے شادی کرنے کے لئے بظاہر توبہ کرلیتے ہیں لیکن حقیقتاً اپنے باطل عقائد پر قائم رہتے ہیں اور بعد میں ان کے سبب پورا گھر وہابی بن جاتا ہے۔ لہذا جب تک تین چار سال دیکھ کر اطمینان نہ کرلیا جائے کہ واقعی مذہب اہل سنت پر قائم ہے اس سے نکاح کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ” اگر کسی کا یہ خیال ہو کہ توبہ کے بعد تو نکاح ہوجانا چاہئے تو اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ تجربہ شاہد ہے کہ دیوبندی لڑکے اور لڑکیاں سنیوں کے یہاں شادی کرنے کے لئے یا جو بیاہ ہوچکا ہے اس کو صحیح کرنے کے نام پر بظاہر توبہ کرکے نکاح کرالیتے ہیں مگر پھر حسب سابق وہ دیوبندی وہابی ہی رہتے ہیں اس لئے بعد توبہ فوراً وہابی یا وہابیہ سے نکاح کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے تاوقتیکہ تین چار سال دیکھ کر اطمینان نہ کرلیا جائے کہ واقعی وہ سنی مذہب پر قائم ہے ۔ ” اھ (فتاوی برکاتیہ, ص٣٢٦, کتاب النکاح, مطبوعہ شبیر برادرز لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔
کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی ١٤ صفر المظفر ١٤٤٥ھ مطابق یکم اکتوبر ٢٠٢٣ء