لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

حج میں طواف الزیارۃ میں تاخیر کرنا

اگر حج کے دوران کسی مجبوری سے طواف زیارت 12 ذوالحجہ کے بعد کیا تو کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

طوافِ زیارت حج کا فرض ہے اور اس کا وقت 10، 11، اور 12 ذوالحجہ غروب آفتاب تک ہے۔ اگر عورت حیض کے باعث تاخیر کرے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں، پاک ہونے پر کرے۔ لیکن اگر کوئی شخص بغیر کسی شرعی عذر کے طوافِ زیارت 12 تاریخ کے سورج غروب ہونے کے بعد کرے گا، تو اس پر جرمانے کے طور پر ایک ‘دم’ (قربانی) حدودِ حرم میں دینا واجب ہوگا۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات