بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-42 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
طوافِ زیارت حج کا فرض ہے اور اس کا وقت 10، 11، اور 12 ذوالحجہ غروب آفتاب تک ہے۔ اگر عورت حیض کے باعث تاخیر کرے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں، پاک ہونے پر کرے۔ لیکن اگر کوئی شخص بغیر کسی شرعی عذر کے طوافِ زیارت 12 تاریخ کے سورج غروب ہونے کے بعد کرے گا، تو اس پر جرمانے کے طور پر ایک ‘دم’ (قربانی) حدودِ حرم میں دینا واجب ہوگا۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ