صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #399 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

ٹیلی فون، ویڈیو کال یا انٹرنیٹ کے ذریعے نکاح

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 5,792

سوال (Question):

لڑکا بیرونِ ملک ہے، کیا واٹس ایپ یا زوم کال پر ڈائریکٹ نکاح پڑھایا جا سکتا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نکاح کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول اور دو گواہ ایک ہی مجلس (مکان) میں موجود ہوں۔ فون یا ویڈیو کال پر چونکہ مجلس ایک نہیں ہوتی، اس لیے براہِ راست نکاح درست نہیں۔ البتہ لڑکا پاکستان میں کسی کو اپنا ‘وکیل’ بنا دے، پھر وہ وکیل قاضی اور گواہوں کے سامنے قبول کرے تو نکاح ہو جائے گا۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat