دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #395
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
حجرِ اسود کو چومنے کے لیے دھکم پیل کرنا
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
5,045
سوال (Question):
طواف کے دوران حجر اسود کو چومنے کے لیے لوگوں کو دھکے دینا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حجرِ اسود کو چومنا سنت ہے، لیکن مسلمانوں کو تکلیف دینا، دھکے مارنا یا عورتوں کے ہجوم میں گھسنا حرام ہے۔ ایک سنت پر عمل کرنے کے لیے حرام کام کا ارتکاب کرنا جہالت ہے۔ ہجوم ہو تو دور سے ہاتھ کا اشارہ کر کے بوسہ دے لینا کافی اور مسنون ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat