لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

رضاعی بھائی بہن (دودھ شریک) کے درمیان نکاح

اگر دو بچوں نے بچپن میں ایک ہی عورت کا دودھ پیا ہو تو کیا بڑے ہو کر ان کا نکاح ہو سکتا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جس طرح نسبی (سگے) بھائی بہن کا نکاح حرام ہے، اسی طرح اگر دو بچوں نے اڑھائی سال کی عمر کے اندر ایک ہی عورت کا دودھ پیا ہو تو وہ رضاعی بہن بھائی بن جاتے ہیں اور ان کا آپس میں نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات