عورتوں کا گیت گانا تو مطلقاً حرام ہے کیونکہ اس سے انکی آواز بلند ہوتی ہے اور عورتوں کی آواز کا بلند ہونا کہ غیر محرم مرد سنیں یہ ناجائز وحرام ہے، شریعت مطہرہ ہرگز ہرگز سوال میں مذکور خبیث کاموں کی اجازت نہیں دیتی، جو لوگ بھی ایسی گھناؤنی حرکتیں کرتے ہیں سب کے سب فساق وفجار،حرام کبیرہ کے مرتکب، مستحق غضب جبار وعذاب نار ہیں، ان پر لازم ہے کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں توبہ صادقہ کرکے اپنی بری حرکتوں سے باز آجائیں ورنہ مسلمان انکے ساتھ کسی طرح کا میل جول روا نہ رکھیں۔
فتح القدیر میں ہے:
” وفي النهاية أن الغناء في حقهن مطلقا حرام لرفع صوتهن وهو حرام” اور نہایہ میں ہے کہ گانا عورتوں کے حق میں مطلقا حرام ہے کیونکہ اس سے ان کی آواز بلند ہوتی ہے اور یہ حرام ہے۔(ج ۷ ص ۳۸۱/ کتاب الشھادات/باب من تقبل شھادته ومن لا تقبل/دار الکتب العلمیة،بیروت،لبنان)
فتاوی امجدیہ میں ہے:
"ڈھولک بجانا ناجائز ہے یوہیں عورتوں کا اسطرح گانا کہ نامحرم کو آواز پہنچے اور وہ بھی تالیاں بجا کر، حرام ہے اور اس کا قصداً سننا بھی حرام ہے اور ایسی مجلس میں شرکت کا بھی یہی حکم ہے”(ج ۴ ص ۴۴/ناشر:دار العلوم امجدیہ، مکتبہ رضویہ،آرام باغ روڈ، کراچی)
نیز اسی میں ہے:
"عورتوں کا گانا جب مزامیر کے ساتھ ہو یا آواز اجنبی تک پہنچے یہ بھی حرام ہے”(حوالہ سابق ص ۱۳۹)
مفتی اعظم راجستھان علامہ مفتی محمد اشفاق حسین نعیمی اجملی رحمہ اللہ تعالی اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: "گانا بجانا مرد و عورت کے لیے ناجائز ہے اور عورت کے لیے اور بھی ناجائز ہے، چونکہ عورت کی آواز بھی عورت ہے تو جس طرح عورت پر اپنی شرمگاہ کا پردہ واجب ہے اسی طرح آواز کو بلند نہ کرنا واجب ہے، جس سے بے پردگی ہوتی ہے جس سے بے حیائی اور برائی کا ہونا یقینی ہے جیساکہ فی زماننا روزانہ کا مشاہدہ ہے "(فتاوی مفتی اعظم راجستھان، ص ۴۰۵/ کتاب الحظر والاباحة/ناشر: امام احمد رضا لائبریری، جامعہ فیضان اشفاق، ناگور شریف، راجستھان)
۱۶/جمادی الاولی ۱۴۴۷ھ مطابق ۸/نومبر ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح
کمال احمد علیمیؔ نظامی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
الجواب صحیح والمجیب نجیح
محمد عارف قادری نعیمی عفی عنہ
خادم التدریس والافتاء جامعہ حنفیہ نظامیہ حنفی نگر ایتی راجوری