وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ستر ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ کے ورد کے بارے میں حدیث پاک میں یہ فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جو اسے اتنی تعداد میں پڑھے اس کی بخشش ہوجائے گی اور جس کے لیے پڑھا جائے اس کی بھی بخشش ہوجائے گی۔ ہمارے یہاں ختمات کی مجالس میں پچھتر ہزار بار جو پڑھتے ہیں وہ اس لیے تاکہ جو تعداد (ستر ہزار) حدیث پاک میں بیان کی گئی ہے اس میں کمی نہ رہ جائے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:
"قال الشیخ محی الدین ابن العربی: انہ بلغنی عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم، انہ من قال: لا الٰہ الا اللّٰہ سبعین الفا، غفر اللّٰہ تعالٰی لہ، ومن قیل لہ غفر لہ ایضا، فکنت ذکرت التھلیلۃ بالعدد المروی من غیر ان انوی لاحد بالخصوص،فحضرت طعاما مع بعض الاصحاب، وفیھم شاب مشھور بالکشف، فاذاھو فی اثناء الاکل اظھر البکاء، فسألتہ عن السبب، فقال: اری امی فی العذاب،فوھبت فی باطنی ثواب التھلیلۃ المذکورۃ لھا، فضحک، وقال: انی اراھا الاٰن فی حسن المآب، فقال الشیخ: فعرفت صحۃالحدیث بصحۃ کشفہ وصحۃ کشفہ بصحۃ الحدیث "سیدی شیخ اکبر امام محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا مجھے رسول اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے حدیث پہنچی ہے کہ جو شخص ستر ہزار بار لا إله إلا الله کہے اس کی مغفرت ہو اور جس کے لیے پڑھا جائے اس کی مغفرت ہو، میں نے لا إله إلا الله اتنے بار پڑھا تھا اس میں کسی کے لیے خاص نیت نہ کی تھی اپنے بعض رفیقوں کے ساتھ ایک دعوت میں گیا ان میں ایک جوان کے کشف کا شہرہ تھا کھانا کھاتے کھاتے رونے لگا میں نے سبب پوچھا، کہا اپنی ماں کو عذاب میں دیکھتا ہوں، میں نے اپنے دل میں کلمہ کا ثواب اس کی ماں کو بخش دیا فوراً وہ جوان ہنسنے لگا اور کہا اب میں اسے اچھی جگہ دیکھتا ہوں، امام محی الدین قدس سرہ فرماتے ہیں تو میں نے حدیث کی صحت اس جوان کے کشف کی صحت سے پہچانی اور اس کے کشف کی صحت حدیث کی صحت سے جانی۔(فتاوی رضویہ مترجم ج ۵ ص ۴۷۸/رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین/رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مولانا نفیس احمد مصباحی مد ظلہ العالی لکھتے ہیں: "ضعاف کی تقویت کے طریقے۔۔۔۔۔۔۔۔(۵)تجربہ وکشف: کبھی تجربہ اور کشف سے بھی حدیث کو قوت مل جاتی ہے۔ حضرت ملا علی قاری مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح اور شرح شفا (ج/۲، ص/۳۹۹) میں تحریر فرماتے ہیں۔ سید المکاشفین حضرت محی الدین بن العربی قدس سرہ نے فرمایا کہ مجھے حضور اکرم ﷺ سے حدیث پہنچی: من قال لا إله إلا الله سبعین ألفا غفر الله تعالٰی، ومن قیل له غفرله أيضا۔ جو شخص ستر ہزار بار لا إله إلا الله کہے اس کی مغفرت ہو جائے گی، اور جس کے لیے پڑھا جائے اس کی بھی مغفرت ہوجائے گی۔ میں نے یہ کلمہ ستر ہزار مرتبہ پڑھا تھا مگر کسی خاص شخص کی نیت نہیں کی تھی۔ ایک دعوت میں کچھ لوگوں کے ساتھ حاضر ہوا، اس میں ایک جوان بھی تھا جو کشف میں مشہور تھا، یہ جوان کھانا کھاتے کھاتے رونے لگا، میں نے سبب پوچھا تو بتانے لگا کہ میں اپنی ماں کو عذاب میں دیکھتا ہوں، میں نے اپنے دل میں کلمہ کا ثواب اس کی ماں کو بخش دیا، فوراً وہ جوان ہنسنے لگا اور کہا اب میں اسے اچھی حالت میں دیکھتا ہوں۔
امام موصوف فرماتے ہیں:
فعرفت صحة الحديث بصحة كشفه وصحة كشفه بصحة الحديث۔ میں نے حدیث کی صحت اس جوان کے کشف سے اس کے کشف کی صحت اس حدیث سے جانی "(اصول حدیث، ص۴۳ تا ۴۴/ناشر:مجلس برکات، جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی)
۱۴/جمادی الاولی ۱۴۴۷ھ مطابق ۶/نومبر ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح
محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی