ادبِ علمائے حق
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان حنفی قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
“عوام پر علمائے دین کا ادب باپ سے زیادہ فرض ہے۔”
فتاویٰ رضویہ، جلد 25، صفحہ 21
یہ مبارک ارشاد علمائے حق کے عظیم مقام اور امتِ مسلمہ پر ان کے حقوق کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ البتہ اس حکم کا تعلق ہر اس شخص سے نہیں جو اپنے نام کے ساتھ “عالم” لکھ لے یا علم کا دعویٰ کرے، بلکہ اس سے مراد وہ علمائے حق اہلِ سنت و جماعت ہیں جو شریعتِ مطہرہ اور سنتِ نبوی ﷺ کے پابند، عقائدِ اہلِ سنت کے محافظ، دین کے معاملات میں بے لچک، اور حق گوئی میں ثابت قدم ہوں۔
علمائے حق درحقیقت امت کے دینی رہنما ہوتے ہیں۔ وہ قرآن و سنت کی صحیح تعلیم عام کرتے ہیں، عقائد و اعمال کی اصلاح فرماتے ہیں، امت کو گمراہی اور فتنوں سے بچاتے ہیں، اور ہر دور میں حق کا عَلَم بلند رکھتے ہیں۔ انہی کی محنتوں کے نتیجے میں دین کی صحیح تعلیم نسل در نسل منتقل ہوتی ہے اور اہلِ ایمان کو صراطِ مستقیم کی پہچان نصیب ہوتی ہے۔
اسی لیے ان کا ادب محض ایک معاشرتی رسم یا اخلاقی تقاضا نہیں، بلکہ دین کی تعظیم، علمِ نبوی ﷺ کی توقیر اور شریعتِ اسلامیہ سے وابستگی کی علامت ہے۔ جو شخص علمائے حق کی قدر کرتا ہے، وہ درحقیقت دین کی خدمت اور اس کے محافظوں کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے، جبکہ ان کی بے ادبی انسان کو دینی نقصان اور محرومی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
آج کے پُرفتن دور میں جبکہ ہر شخص دین کی بات کرنے لگا ہے، ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ علمائے حق اہلِ سنت و جماعت کی پہچان کرے، انہی سے دین سیکھے، انہی کی رہنمائی اختیار کرے اور ان کے ادب و احترام کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عقیدے کی حفاظت، اعمال کی اصلاح اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمائے حق اہلِ سنت و جماعت کی صحیح پہچان، ان کی محبت، تعظیم اور ادب نصیب فرمائے، اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینِ اسلام کی صحیح خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
توسیم رضا امجدی علیمی