بغداد سے عالمِ اسلام تک پھیلتی روشنی
تاریخ کے افق پر کبھی کبھی ایسے آفتاب طلوع ہوتے ہیں جن کی روشنی صرف ان کے عہد تک محدود نہیں رہتی بلکہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی دلوں، خانقاہوں، مدارس اور معاشروں کو منور کرتی رہتی ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی روشن سلسلے کی ایک عظیم کڑی ہیں۔
گیلان کی سرزمین سے اٹھنے والا یہ مردِ حق بغداد پہنچا تو وہاں صرف ایک طالبِ علم بن کر نہیں رہا علم حاصل کیا، فقہ پڑھی، روحانی تربیت حاصل کی اور پھر ایسا وقت آیا کہ بغداد کے منبر سے اٹھنے والی اس کی آواز دور دور تک دلوں کو جھنجھوڑنے لگی۔ تاریخی ماخذوں کے مطابق آپ تقریباً اٹھارہ برس کی عمر میں بغداد پہنچے اور وہاں حنبلی فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں آپ کی علمی و دعوتی زندگی نے بغداد کو آپ کی اصلاحی سرگرمیوں کا اہم مرکز بنا دیا۔
بغداد اس زمانے میں علم و تہذیب کا بڑا مرکز تھا۔ علماء، فقہاء، محدثین اور اہلِ فکر کی ایک دنیا وہاں آباد تھی۔ مگر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی امتیازی شان یہ تھی کہ آپ نے علم کو صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے دلوں کی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔
آپ کی وعظ و نصیحت کی مجالس مقبول ہوتی گئیں اور مختلف طبقات کے لوگ آپ کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ آپ نے طلبہ و مسافروں کے لیے رہائش گاہ بھی قائم کی جو آج بھی موجود ہے۔۔(الحمد للہ راقم نے اس کی زیارت بھی کی اور اس میں کئی دن قیام بھی کیا۔)
یہ صرف ایک مدرسے کی تعمیر نہیں تھی یہ دراصل ایک ایسی فکری و روحانی تحریک کا مرکز تھا جس نے علم، عمل، تزکیہ اور اخلاق کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔
علم کے ساتھ دل کی اصلاح حضرت غوثِ اعظم کی تعلیمات کا بنیادی مزاج تھا اور یہ بھی کہ انسان صرف ظاہر کو نہ سنوارے، اپنے باطن کی بھی خبر لے۔
آج ہم معلومات کے ایک ایسے سیلاب میں کھڑے ہیں جس کی مثال شاید تاریخ میں کم ملتی ہو۔ چند سیکنڈ میں ہزاروں صفحات ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس علم نے ہمارے کردار کو کتنا بدلا؟
زبان پر دین ہے، مگر معاملات میں جھوٹ۔ لباس پردینداری ہے، مگر تجارت میں خیانت۔
محفل میں ذکر ہے، مگر گھر میں بد اخلاقی۔ زبان پر محبتِ رسول ﷺ ہے، مگر سنتِ رسول ﷺ سے عملی دوری۔ ایسے ماحول میں غوثِ اعظم کی تعلیمات ہمیں آئینہ دکھاتی ہیں کہ دین صرف الفاظ کا نام نہیں دین زندگی کو بدلنے کا نام ہے۔
حضرت عبدالقادر جیلانی کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ آپ نے وعظ کیا، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ آپ نے لوگوں کی تربیت کی۔ آپ کی منقول تصانیف اور مواعظ میں شریعت، اخلاق، تزکیۂ نفس اور اللہ تعالیٰ سے تعلق جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
آپ کی دعوت کا مرکزی محور انسان کو اس کے رب کی طرف متوجہ کرنا تھا۔ انسان دنیا میں رہے، مگر دنیا اس کے دل میں نہ رہے۔ وہ مال کمائے، مگر حرام سے بچے۔ وہ معاشرے میں رہے، مگر ظلم نہ کرے۔ وہ علم حاصل کرے، مگر تکبر نہ کرے۔ وہ عبادت کرے، مگر ریا سے بچے۔ یہی وہ توازن ہے جو ایک صالح مسلمان کی زندگی کو تشکیل دیتا ہے۔
حضرت غوثِ اعظم کی وفات کے بعد آپ کی نسبت سے قائم ہونے والی قادری روایت اور آپ کی تعلیمات نے مختلف خطوں میں اثر پیدا کیا۔ علمی ماخذوں کے مطابق قادری سلسلے کی پیروی اور اس سے وابستگی شمالی و مغربی افریقہ سے لے کر برصغیر اور جنوب مشرقی ایشیا تک مختلف علاقوں میں پھیلی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بغداد کا نام آتا ہے تو غوثِ اعظم کی یاد بھی تازہ ہوجاتی ہے، اور غوثِ اعظم کا تذکرہ ہوتا ہے تو بغداد کی وہ علمی و روحانی فضا آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے جہاں ایک مردِ خدا نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ علم، دعوت اور اصلاح میں گزارا۔ روشنی صرف چراغ سے نہیں، کردار سے پھیلتی ہے۔غوثِ اعظم کی زندگی کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ اصلاح کا آغاز اپنے نفس سے ہوتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ بدل جائے، مگر خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان گناہوں سے بچیں، مگر انہیں پاکیزہ ماحول دینے کی فکر کم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بازاروں میں دیانت ہو، مگر خود معاملات میں معمولی فائدے کے لیے اصول بھول جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ گھروں میں سکون ہو، مگر زبان کے زخموں کا حساب نہیں رکھتے۔حضرت غوثِ اعظم کی روشنی کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے اپنے اندر چراغ روشن کیا جائے۔ آج پھر شہنشاہ بغداد کے اس پیغام کی ضرورت ہے آج امت مسلمہ کو نئے نعروں سے زیادہ سچے کردار کی ضرورت ہے۔
ایسے علماء کی ضرورت ہے جن کے علم کے ساتھ عمل ہو۔
ایسے والدین کی ضرورت ہے جن کی تربیت صرف دنیاوی کامیابی تک محدود نہ ہو۔
ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو موبائل کی اسکرین سے آگے اپنی آخرت کو بھی دیکھ سکیں۔ایسے تاجروں کی ضرورت ہے جن کی دکان پر قرآن کی آیت ہی نہیں بلکہ دیانت بھی نظر آئے۔
اور ایسے مسلمانوں کی ضرورت ہے جن کی زبان سے نکلنے والا کلمہ ان کے کردار میں بھی سنائی دے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی اصلاحی فکر آج کے مسلمان سے سوال کرتی ہے: کہ تم غوثِ اعظم کو کتنا جانتے ہو؟ اور اس سے بھی بڑا سوال: تم نے غوثِ اعظم کی تعلیمات سے اپنی زندگی کو کتنا بدلا؟
بغداد سے عالمِ اسلام تک اور آج ہمارے دلوں تک انھیں کا فیض ایک سیل رواں کی طرح جاری وساری ہے۔ بغداد سے اٹھنے والی وہ آواز صدیوں کے فاصلے طے کرکے آج بھی ہمارے کانوں تک پہنچتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ آواز ہمیں شہرت نہیں، اخلاص کی طرف بلاتی ہے؛ دعویٰ نہیں، عمل کی طرف بلاتی ہے دنیا کی محبت نہیں، اللہ تعالیٰ کی محبت کی طرف بلاتی ہے۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد محض ماضی کا تذکرہ نہیں۔ بلکہ حال کی اصلاح کا وسیلہ بن سکتی ہے۔بشرطیکہ ہم ان کی نسبت کو صرف زبان تک نہ رکھیں بلکہ ان کی اصلاحی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
یاد رکھیں ۔بغداد میں ایک چراغ روشن ہوا تھا۔اس کی روشنی نے عالمِ اسلام کے دلوں کو چھوا اب سوال یہ ہے کہ وہ روشنی ہمارے دل تک کب پہنچے گی؟
شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم اگر عمل سے خالی ہو تو اس کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔
ایک عالم کا علم اس کے اخلاق میں دکھائی دینا چاہیے۔
ایک صوفی کی روحانیت اس کے تقویٰ میں نظر آنی چاہیے۔
ایک مسلمان کی محبت اس کے معاملات میں جھلکنی چاہیے۔
اور ایک عاشقِ رسول ﷺ کی زندگی سنتِ مصطفیٰ ﷺ سے مزین ہونی چاہیے۔
یہی وہ عملی دین ہے جس کی طرف اولیائے کرام نے لوگوں کو متوجہ کیا۔
razamarkazi@gmail.com