صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2841 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 6, 2026
0 2

سوال (Question):

حضرت مفتی صاحب قبلہ دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی.
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
زید نے اپنی بیوی کو ان الفاظ میں طلاق دی کہ
"میں نے تجھے ایک طلاق رجعی دی،مگر میں عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا، عدت کے بعد ہم دونوں آزاد ہوں گے.اس صورت میں کون سی طلاق واقع ہوگی.؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی

الجواب بعون اللہ الھادی الی الحق والصواب
صورتِ مسئولہ میں زید نے مستقبل میں رجعت نہ ہونے کو طلاق کی صفت نہیں بنایا، بلکہ اگر طلاق کی صفت بناتا جب بھی ظاہر یہی ہے کہ ایک طلاق رجعی ہوتی ۔ہاں اگر طلاق کی صفت بناکر یوں کہتا جس کے بعد رجعت نہیں ہوتی تو طلاق بائن ہوتی، اب جب کہ اس کو اپنا فعل بتایا اور یوں کہا کہ جس میں رجعت نہیں کروں گا تو اس سے طلاق رجعی ہونا اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے ظاہر بتایا ہے۔
در مختار میں ہے:
“وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَنْ لَا رَجْعَةَ لِي عَلَيْك لَهُ الرَّجْعَةُ؛ وَقِيلَ: لَا جَوْهَرَةٌ. وَرَجَّحَ فِي الْبَحْرِ الثَّانِي.
(الدر المختار مع ردالمحتار ، کتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،مطلب الانقلاب والاقتصار والاستناد والتبيين،٣/ ٢٧٨ )
شامی میں ہے :
لو قال: أنت طالق ولا رجعة لي عليك فرجعية، ولو قال: على أن لا رجعة لي عليك فبائن اهـ …وقال: إن قولهم لا يردك قاض إلخ مثل قوله ولا رجعة لي عليك لأن حذف الواو كإثباتها كما لو ظاهر، لا مثل علي أن لا رجعة اهـ. قلت: والفرق أن علي أن لا رجعة قيد للطلاق لأنه شرط فيه، فهو في معنى أنت طالق طلاقا مشروطا فيه عدم الرجعة: أي طلاقا بائنا، فهو داخل تحت القاعدة من أنه إذا وصف الطلاق بضرب من الشدة والزيادة يقع به البائن كما مر عن الهداية. أما ولا رجعة لي عليك فليس صفة للطلاق بل هو كلام مستأنف أخبر به عما هو خلاف الشرع، فإن الشرع هو وقوع الرجعي بأنت طالق؛ فقوله ولا رجعة لغو، مثل قوله: أنت طالق وبائن أو ثم بائن بلا نية كما مر.(کتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،مطلب الانقلاب والاقتصار والاستناد والتبيين،٣/ ٢٧٨)
البحر الرائق میں ہے:
“ثم قال وإن قال أنت طالق على أنه لا رجعة لي عليك يلغو ويملك الرجعة” (كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،٣/ ٣١٣،مطبع دار المعرفة بیروت )
فتاؤی رضویہ میں ہے :
بحر میں جوہرہ سے منقول ہے : اگر خاوند نے کہا تجھے طلاق اس شرط پر جس میں مجھے رجعت کا اختیار نہیں ، تویہ رجعی ہوگی ، اور بعض نے کہا ایک بائنہ واقع ہوگی ، اور اگر تین کی نیت کی تو تین ہوں گی۔ اور ہدایہ کے بیان سے ظاہر یہ ہے کہ دوسرا قول مختارِمذہب ہے، کیونکہ اس نے کہا کہ اگر طلاق کو کسی شدّت اور زیادتی کے ساتھ موصوف کیا جائے تو وُہ بائنہ ہوگی اھ.
اس کے سوا تیسری صورت ایک اور ہے وُہ یہ کہ تجھے طلاق ہے اور مجھے رجعت کا اختیار نہیں، اس میں بلاشبہ رجعی ہوگی کما فی الشامی ویاتی ،یُونہی اگر کہا تجھ پر طلاق ہے اس شرط پر کہ اس کے بعد رجعت نہیں بلکہ یُوں کہا تجھ پر وُہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہیں بلکہ یُوں کہا کہ تجھ پر وُہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہ ہوگی ، تو ان سب صورتوں میں بلاخلاف رجعی ہونا چاہئے ،اس میں رازیہ ہے کہ یہاں تین صورتیں ہیں ، ایک عطف ، دوسری شرط ، تیسری وصف ، پہلی ، جیسے کہے “ تجھے طلاق اور مجھے رجوع کاحق تجھ پر نہیں ۔ “ دوسری ، جیسے کہے “ تجھے طلاق اس شرط پر کہ مجھے رجوع کا حق نہیں “ ۔ تیسری ، جیسے کہے “ تجھے وہ طلاق جس میں مجھے تجھ پر رجوع کا حق نہیں “ پہلی صورت میں عطف کی وجہ سے مستقل کلام ہے ماقبل کو تبدیل نہیں کرےگا اور ماقبل اپنے شرعی حکم سے متغیر نہ ہوگا ، اور دوسری صورت میں شرط کی وجہ سے ماقبل متغیر کرے گا ، اور اس میں وجہ مختلف ہے ، جس نے یہ وجہ بنائی کہ ماقبل کےلئے مغیّر ہے اور شرعی حکم متغیر کررہا ہے ، تو اس شرط کو لغو قرار دیااور ماقبل کو رجعی قرار دیا ، کیونکہ اس کو رجعی کی شرط بنانا زیادہ وزنی ہے اور یہ کہا کہ ﷲ کے حکم کے خلاف شرط باطل ہے ، اگرچہ ایسی سَوشرطیں بھی ہوں تو وُہ باطل ہوں گی جیساکہ حدیثِ صحیح میں ارشاد ہے۔ اور تیسری صورت وصف تو جس نے یہاں وصف قرار دیا انہوں نے کہا اس وصف کی وجہ سے طلاق بائنہ ہوگی ، لہذا ان کے نزدیک یہ وصف پہلے بیان کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ اس کی تعبیرہے، گویا اس نے کہا “ طلاق سے میری مراد ایسی طلاق جس میں مجھے رجوع کا حق نہ ہو “ ۔ آپ جانتے ہیں کہ پہلی صورت واضح ہے ، اور دوسری صورت میں شرط کو مؤثر ماننے کو ترجیح ہوگی کیونکہ کسی کلام کو عمل میں لانا اسے مہمل قراردینے سے بہتر ہے ، اور تیسری صورت میں کوئی شُبہہ نہیں ہے کیونکہ جب طلاق کوکسی شدید اور زیادتی والے وصف سے موصوف کیا جائے تو وُہ طلاق بائنہ ہوجاتی ہے “(فتاویٰ رضویہ ١٢/ ٥٣٠)
بہار شریعت میں ہے:
“اگر کہا:تجھے ایسی طلاق جس سے تو اپنے نفس کی مالک ہو جائے یا کہا: تجھے ایسی طلاق جس میں میرے لیے رجعت نہیں تو بائن ہوگی اوراگر کہا:تجھے طلاق ہےاور میرے لیے رجعت نہیں تو رجعی ہوگی۔ یوں ہی اگر کہا: تجھے طلاق ہے کوئی قاضی یا حاکم یا عالم تجھے واپس نہ کرے جب بھی رجعی ہوگی، (درمختار، ردالمحتار) اور اگر کہا:تجھے طلاق ہے اِس شرط پر کہ اُس کے بعد رجعت نہیں یا یوں کہا: تجھ پر وہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہیں یا کہا: تجھ پر وہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہ ہوگی تو ان سب صورتوں میں رجعی ہو جانا چاہیے۔(فتاویٰ رضویہ:ج ۱۲ ،ص ۵۲۹) اور اگرکہا: تجھ پر وہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہیں ہوتی تو بائن ہو نا چاہیے۔
(بہار شریعت، حصہ ہشتم، ص :١٢٦)
پھر بھی اگر عدت باقی رہتے ہوئے احتیاطا نکاح جدید کرلے تو بہتر ہے۔
حاصل یہ کہ صورت مسئولہ میں طلاق رجعی ہوگی،زید عدت کے دوران بغیر نکاح کے رجوع کرسکتا ہے، عدت گزر گئی تو اب عورت نکاح سے نکل جائے گی،دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو تجدید نکاح کرنی لازم ہوگی.
واللہ اعلم بالصواب
کاتب :کمال احمد علیمی نظامی
استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی
ارشاد وتصدیق :حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین قادری صاحب دامت برکاتھم استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی
٢١ربیع الأول ١٤٤٨ ھ / ٤ ستمبر ٢٠٢٦ ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat