اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
سوال (Question):
ضرت مفتی صاحب قبلہ السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
ہندہ کا عقد زید سے ہوا تھا کچھ دنوں تک دونوں کے درمیان معاملہ ٹھیک رہا،پھر ان بن ہوگئی،دونوں کے درمیان صلح ہوجائے اس کےلیے دونوں طرف سے بہت کوشش ہوئی مگر صلح نہ ہو سکی معاملہ طلاق تک پہونچ گیااور ہندہ کےذریعہ طلاق کے مطالبے پر زید نے اسے طلاق دے دیا ہندہ اپنے جہیز کا پورا سامان بھی اٹھا لے گئی اور اس وقت اپنے میکے میں ہے،اور زید سےعدت کے ایام کے خرچے کامطالبہ کر رہی ہے،دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میکے میں رہ کر ہندہ زید سے ایام عدت کے خرچے کا مطالبہ کر سکتی ہے،شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں،
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں
حضرت مفتی صاحب قبلہ السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
ہندہ کا عقد زید سے ہوا تھا کچھ دنوں تک دونوں کے درمیان معاملہ ٹھیک رہا،پھر ان بن ہوگئی،دونوں کے درمیان صلح ہوجائے اس کےلیے دونوں طرف سے بہت کوشش ہوئی مگر صلح نہ ہو سکی معاملہ طلاق تک پہونچ گیااور ہندہ کےذریعہ طلاق کے مطالبے پر زید نے اسے طلاق دے دیا ہندہ اپنے جہیز کا پورا سامان بھی اٹھا لے گئی اور اس وقت اپنے میکے میں ہے،اور زید سےعدت کے ایام کے خرچے کامطالبہ کر رہی ہے،دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میکے میں رہ کر ہندہ زید سے ایام عدت کے خرچے کا مطالبہ کر سکتی ہے،شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں،
المستفتی :محمد فیضان اشرف پرانی سبزی منڈی فیض آباد ضلع ایو دھیا
الجواب بعون الملک الوھاب
ہندہ اگر اپنی مرضی سے میکے گئی ہے تو جب تک وہ وہاں ریے گی نان ونفقہ کی حق دار نہیں ہوگی.
در مختار مع ردالمحتار میں ہے:
“(قوله لكن لا نفقة إلخ) لأنها جزاء الاحتباس، ولذا لم تجب نفقة الناشزة والحاجة مع غير الزوج والمغصوبة والمحبوسة بدين عليها رحمتي، وعطف السكنى على النفقة عطف خاص على عام لأن النفقة اسم لها وللطعام والكسوة.”(كتاب النكاح،باب نكاح الرقيق هو المملوك كلا أو بعضا،١٧١/٣دار الفكر،بیروت )
ترجمہ :(مصنف کا قول: ’’لیکن نفقہ نہیں ہوگا وغیرہ‘‘)
اس کی وجہ یہ ہے کہ نفقہ شوہر کے لیے بیوی کے اپنے آپ کو روکنے اور شوہر کے نکاح میں رہنے کے بدلے میں واجب ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ایسی عورت جو نافرمانی (نشوز) کرے، یا کسی غیر شوہر کے ساتھ ضرورت کی وجہ سے ہو، یا زبردستی کسی دوسرے کے قبضے میں ہو، یا اپنے ذمے قرض ہونے کی وجہ سے قید ہو، اس کا نفقہ واجب نہیں ہوتا۔
’’سکنیٰ‘‘ (رہائش) کو ’’نفقہ‘‘ پر عطف کرنا عام کے بعد خاص کو ذکر کرنا ہے، کیونکہ نفقہ کا لفظ رہائش، کھانے اور لباس سب کو شامل ہے۔
البنایۃ شرح الھدایۃ میں ہے:
“وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله؛ لأن فوت الاحتباس منها) ش: تفسير الناشزة والناشزۃ هي المانعة نفسها عن زوجها بغير حق، وقيل لشريح: هل للناشزة من نفقة؟ فقال: نعم، فقيل: كم؟ فقال: جراب من تراب، معناه: لا نفقة لها.”(باب النفقة ،حكم النفقة للزوجة،٦٦٦/٥،ط: دار الكتب العلمية،بیروت )
’’اگر بیوی ناشزہ (نافرمان) ہوجائے تو اس کے لیے نفقہ نہیں ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے شوہر کے گھر واپس آجائے؛ کیونکہ اس کی طرف سے شوہر کے لیے اپنے آپ کو روکنے اور مخصوص رکھنے کا حق ختم ہوگیا ہے۔‘‘
ناشزہ اس عورت کو کہتے ہیں جو بغیر کسی شرعی وجہ کے اپنے شوہر سے الگ ہوجائے یا اپنے آپ کو شوہر کے اختیار میں نہ دے۔
حضرت شریح سے پوچھا گیا:
’’کیا ناشزہ عورت کے لیے نفقہ ہے؟‘‘انہوں نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘
پوچھاگیا: ’’کتنا؟‘‘فرمایا: ’’مٹی کی ایک بوری۔‘‘
اس کا مطلب یہ تھا کہ حقیقت میں اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے.
ہندیہ میں ہے :
والمعتدة إذا كانت لا تلزم بيت العدة بل تسكن زمانا وتبرز زمانا لا تستحق النفقة كذا في الظهيرية. ولو طلقها، وهي ناشزة فلها أن تعود إلى بيت زوجها، وتأخذ النفقة.(١/ ٥٥٨ دارالفکر بیروت)
ترجمہ :’’اور عدت گزارنے والی عورت اگر عدت کے گھر میں پابندی کے ساتھ نہ رہے، بلکہ کبھی وہاں رہے اور کبھی باہر نکل کر رہے، تو وہ نفقہ کی مستحق نہیں ہوگی۔‘‘ ایسا ہی ظہیریہ میں ہے۔
اور اگر شوہر نے اپنی بیوی کو اس حالت میں طلاق دی کہ وہ ناشزہ (نافرمان) تھی، تو اب اسے شوہر کے گھر واپس آنے کا حق ہے اور وہ نفقہ بھی حاصل کرے گی۔
واللہ اعلم بالصواب
کاتب :کمال احمد علیمی نظامی استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی
تصدیق:محقق عصر، حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی،استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی
١٩ ربیع الاول ١٤٤٨ھ / ٢ستمبر ٢٠٢٦ ء