لہو ولعب اور مسلک اعلیٰ حضرت از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
لہو ولعب اور مسلک اعلیٰ حضرت
ادھر محرم الحرام اور ماہ ربیع النور شریف کے جلوسوں میں کچھ نادان بچے اور بچیوں کی حماقتیں دیکھ کر بدمذہبت کے کیچڑ سے لت پت کچھ” برساتی مینڈک” بہت اچھل کود مچائے ہیں،اپنی سوشل میڈیائی تحریروں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہی اصل سنیت ہے،اب ان “مطردود بندروں” کو کون سمجھائے کہ کسی بھی مذہب ومسلک کی تصدیق وتکذیب کا معیار اس کے پیروکار نہیں بلکہ اس کی اصل تعلیمات ہوتی ہیں.
مذہب حق، مسلک ناجی (مسلک اعلیٰ حضرت) میں کہیں بھی اس طرح کی بے ہودہ حرکتوں کی اجازت نہیں ہے،”پڑھے لکھے جاہل” علماے اہل سنت کی کسی تحریر وتقریر سے اسے ثابت نہیں کرسکتے.
دراصل کسی بھی مذہب ومسلک کے پیروکار انسان ہی ہوتے ہیں اور انسان سے بے جا حرکتوں کا صدور ممکن ہی نہیں بلکہ واقع بھی ہے ،مذہب اسلام لہو ولعب سے پاک ایک صاف ستھرا دین ہے،پیغمبر اسلام علیہ السلام اور ان کے وارثین علماے اہل سنت نے شدت کے ساتھ دینی امور میں کھیل کود، اسراف اور خرافات کی تردید کی ہے،چناں چہ امام اہل سنت ،اعلی حضرت، امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
“اسی طرح ہر کھیل اورعبث فعل جس میں نہ کوئی غرضِ دین نہ کوئی منفعتِ جائزہ دنیوی ہوسب مکروہ وبےجاہیں، کوئی کم کوئی زیادہ.
درمختارمیں ہے
” وکرہ کل لھولقولہ علیہ الصلٰوۃوالسلام کل لھو المسلم حرام الاثلثۃ ملاعبتہ باھلہ وتادیبہ للفرسہ ومناضلتہ بقوسہ۔
ہر کھیل مکروہ ہے اس لئے کہ حضور علیہ الصلٰوۃوالسلام نے ارشاد فرمایا:مسلمان کاہرکھیل حرام ہے سوائے تین کے، خاوندکااپنی اہلیہ سے کھیلنا،اپنے گھوڑے کوشائستگی سکھاتے ہوئے اس سے کھیلنا،اپنی کمان کے ساتھ تیر اندازی “(فتاویٰ رضویہ ج ٢٤ ص:٧٩)
یہی اہل سنت وجماعت کا پاکیزہ نظریہ ہے اور یہی معیار حق وباطل،باقی سب بے کار وعاطل، بے پردہ خواتین کا پریڈ،بے حجاب بالغ ومشتھاۃ بچیوں کی کرتب بازی ،اسلامی پردے سے غافل جاہل خواتین کی جلوس میں شرکت یہ سب ناجائز وحرام ہیں ،سنیت اس سے بری ہے،امام اہل سنت نے ان امور کی تردید میں متعدد فتاویٰ بلکہ رسائل تحریر فرمائے ہیں ، ھادی الناس فی رسوم الاعراس ،جمل النور فی نھی النساء عن زیارۃ القبور وغيرہ رسائل انہیں امور کے رد میں ہیں، واویلا مچانے والے نوزائیدہ چوزے انصاف کی عینک لگا کر ان رسائل وفتاوی کا مطالعہ کریں، انہیں اہل سنت کا اصل نظریہ سمجھ میں آجائے گا.
کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی