بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2103 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے
سوال: جب حضور ﷺ کی پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے . وفات کا غم کیوں نہیں منایا جاتا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ شریعت مطہرہ میں صرف تین دن سوگ یا اظہار غم کی اجازت ہے اس سے زیادہ کی نہیں ۔ چنانچہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لا یحل لامراة تومن باللہ و الیوم الاٰخر ان تحد علی میت فوق ثلث ا لا علی زوج فانھا تحد علیہ اربعة اشھر و عشرا (بخاری شریف ج١ ص١٧١) یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے ہوۓ سنا ہے : کہ جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ۔ مگر جس کا شوہر فوت ہوجاۓ وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے ۔ حدیث پاک کی روشنی میں یہ بات سورج کی طرح روشن ہے کہ آج وفات شریف کی سوگ منانا بے معنی ہے ۔ اور ولادت شریف پر خوشی کا اظہار اس وجہ سے ہے کہ آپ ﷺ خدا کی سب سے عظیم نعمت ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو شکران نعمت کا حکم دیا ۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے: وَ اَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿الضحیٰ۱۱﴾ اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ اب جو رسول پاک ﷺ کو خدا کی نعمت نہیں مانتے وہ حضور ﷺ کی پیداٸش میں خوشی نہ مناۓ ۔ الحمد للہ اہلسنت و الجماعت، حضور ﷺ کو صرف خدا کی نعمت ہی نہیں مانتے بلکہ یہ بھی مانتے ہیں کہ دنیا کی تمام نعمتیں اسی ایک نعمت کا صدقہ ہے اسی لیے ہم حضور اقدس ﷺ کی پیداٸش پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ و ھذا من فضل ربی۔ کتبـــــــہ : مفتی محفوظ عالم رضوی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ