دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2103
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے?
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
8,461
سوال (Question):
پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے?
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے
سوال: جب حضور ﷺ کی پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے . وفات کا غم کیوں نہیں منایا جاتا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ شریعت مطہرہ میں صرف تین دن سوگ یا اظہار غم کی اجازت ہے اس سے زیادہ کی نہیں ۔ چنانچہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لا یحل لامراة تومن باللہ و الیوم الاٰخر ان تحد علی میت فوق ثلث ا لا علی زوج فانھا تحد علیہ اربعة اشھر و عشرا (بخاری شریف ج١ ص١٧١) یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے ہوۓ سنا ہے : کہ جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ۔ مگر جس کا شوہر فوت ہوجاۓ وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے ۔ حدیث پاک کی روشنی میں یہ بات سورج کی طرح روشن ہے کہ آج وفات شریف کی سوگ منانا بے معنی ہے ۔ اور ولادت شریف پر خوشی کا اظہار اس وجہ سے ہے کہ آپ ﷺ خدا کی سب سے عظیم نعمت ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو شکران نعمت کا حکم دیا ۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے: وَ اَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿الضحیٰ۱۱﴾ اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ اب جو رسول پاک ﷺ کو خدا کی نعمت نہیں مانتے وہ حضور ﷺ کی پیداٸش میں خوشی نہ مناۓ ۔ الحمد للہ اہلسنت و الجماعت، حضور ﷺ کو صرف خدا کی نعمت ہی نہیں مانتے بلکہ یہ بھی مانتے ہیں کہ دنیا کی تمام نعمتیں اسی ایک نعمت کا صدقہ ہے اسی لیے ہم حضور اقدس ﷺ کی پیداٸش پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ و ھذا من فضل ربی۔ کتبـــــــہ : مفتی محفوظ عالم رضوی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat