زندگی میں کسی وارث کو دینے اور نامنی(Nominee) کی شرعی حیثیت

زندگی میں کسی وارث کو دینے اور نامنی(Nominee) کی شرعی حیثیت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زندگی میں اپنے ایک بیٹے کو دس لاکھ روپیے دے کر مالک بنادیا اور مذکورہ رقم پر اس کا قبضہ ہے اور بینک میں دس لاکھ روپیے جمع کرکے بھی اسی لڑکے کو وارث بنایا اور اس پر بھی اسی لڑکے کا قبضہ ہے ۔ اب زید کا انتقال ہوگیا ہے ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ رقموں میں وارثین کا بھی حق ہے یا نہیں؟

اگر ہے تو کس کو کتنا کتنا ملے گا؟ جب کہ زید مرحوم کے وارثین میں٦/لڑکے اور ٢/ لڑکیاں ہیں۔ بینوا توجروا۔

المستفتی: محمد مشہود عالم صدیقی، بیدولہ، ڈومریا گنج سدھارتھ نگر۔

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

سائل نے بتایا کہ دس لاکھ روپیہ جو بینک میں جمع ہے وہ زید ہی کے نام سے جمع ہے اور ان روپیوں کا نامنی(Nominee) اس نے اپنے بیٹے کو بنادیا ہے ۔ یعنی بینک کا دس لاکھ روپیہ زید کے لڑکے کے نام سے جمع نہیں ہے ۔ اس لیے وہ دس لاکھ روپیے جو زید نے بیٹے کو دے کر قبضہ کرادیا اور وہ دس لاکھ روپیے جو زید کے نام سے بینک میں جمع ہیں دونوں روپیوں کے احکام میں فرق ہے جس کی تفصیل یہ ہے:

زید نے جو دس لاکھ روپیہ اپنے بیٹے کو نقد دیا اور اس پر لڑکے نے قبضہ کرلیا، تو اس کی دو صورتیں ہیں:

(١) اگر زید کا یہ دس لاکھ روپیہ دینا "مرض الموت” میں نہ ہو تو زید کا لڑکا ان روپیوں کا مالک ہے اور اس میں دوسرے وارثوں کا کوئی حصہ نہیں ہے، ہر آدمی کو اپنی زندگی اور صحت و نفاذِ تصرّف کی حالت میں حق ہے کہ اپنی ملکیت کی چیزیں جس کو چاہے مالک بناکر دیدے۔ ہاں! اگر زید نے دوسرے وارثین کو بلا وجہِ شرعی محروم کرنے کی نیت سے ایک ہی لڑکےکو دیا ہو تو اس بری نیت کی وجہ سے وہ ضرور عند اللہ خطا کار اور گنہگار ہوا۔امام اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
"ہاں اگر حالتِ صحت میں اپنا مال اپنی ملک سے زائل کردے تو وارث کچھ نہ پائے گا کہ جب ترکہ ہی نہیں تو میراث کاہے میں (یعنی: کس چیز میں) جاری ہو؟ مگر اس قصدِ ناپاک سے جو فعل کریگا عندﷲ گنہگار وماخوذ رہے گا۔ حدیث میں ہے حضور پرنور سید عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :من فرّ من میراث وارثہ قطع ﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القٰیمۃ۔جو اپنے وارث کو اپنا ترکہ پہونچنے سے بھاگے اللہ تعالی روزِ قیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے گا۔رواہ ابن ماجۃعن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ (فتاوی رضویہ ج٧ص٣٢۵)

(٢) اور اگر زید کا اپنے بیٹے کو نقد دس لاکھ روپیہ دینا "مرض الموت” کی حالت میں ہو تو زید کا یہ عمل اس وقت نافذ ہوگا جب اس کی موت کے بعد اس کے تمام وارث جو عاقل بالغ ہوں اس کی اجازت دے دیں اور اگر کوئی وارث نابالغ یا مجنون ہو تو اس کی اجازت کا اعتبار نہیں اور اگر بعض وارثین اجازت دیں اور بعض نہ دیں تو اجازت دینے والوں کی اجازت ان کی میراث کے حصہ تک معتبر ہے بشرطے کہ وہ عاقل بالغ ہوں۔
امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:

"ہبہ اگرچہ مرض الموت میں ہو حقیقۃً ہبہ ہے، تمام شرائطِ ہبہ درکار ہوں گی ، بلاقبضہ تمام نہ ہوگا ، مشاع ناجائز ہوگا، واہب اگرقبلِ قبضہ کاملہ موہوب لہ انتقال کرجائے ہبہ باطل ہوجائے گا غرض وہ بہمہ وجوہ ہبہ ہے. اوراسی کے احکام رکھتاہے۔ مرض الموت میں ہونے کاصرف اتنا اثر ہے کہ وارث کے لئے مطلقاً اوراجنبی کے واسطے ثلث باقی بعد ادائے دیون سے زیادہ میں بے اجازتِ دیگرورثہ نافذ نہ ہوگا اجازت وارث عاقل بالغ نافذ التصرف کی بعدِ وفاتِ مورث درکارہے اس کی حیات میں اجازت دینی نہ دینی بیکارہے۔ پس اگر مورث مثلا اپنے پسرکو اپنے مرض الموت میں کوئی شی ہبہ کرے اورقبضہ بھی پورا کرادے اوراس کے انتقال کے بعد دیگر ورثہ اسے نہ مانیں وہ یکسرباطل ہوجائےگا اوربعض مانیں اوربعض نہ مانیں تو اس نہ ماننے والے کے حصے کے لائق باطل قرارپائےگا”
(فتاوی رضویہ ج ١٠ ص١٦٧ )

فائدہ: مرض الموت: کا مریض کس بیمار کو کہتے ہیں؟ اس کا بیان کرتے ہوئے حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
"مریض سے مراد وہ شخص ہے جس کی نسبت غالبِ گمان ہو کہ اس مرض سے ہلاک ہوجائے گا کہ مرض نے اُسے اتنا لاغر کر دیا ہے کہ گھر سے باہر کے کام کے لیے نہیں جاسکتا، مثلاً نماز کے لیے مسجد کو نہ جا سکتا ہو یا تاجر اپنی دوکان تک نہ جاسکتا ہو اور یہ اکثر کے لحاظ سے ہے، ورنہ اصل حکم یہ ہے کہ اُس مرض میں غالب گمان موت ہو اگرچہ ابتداءً جبکہ شدت نہ ہوئی ہو باہر جاسکتا ہو مثلاً ہیضہ وغیرہا امراض مہلکہ میں بعض لوگ گھر سے باہر کے بھی کام کر لیتے ہیں ، مگر ایسے امراض میں غالب گمان ہلاکت ہے۔ یوہیں یہاں مریض کے لیے صاحب فراش ہونا بھی ضروری نہیں اور امراض مزمنہ مثلاً سِلْ فالج اگر روز بروز زیادتی پر ہوں تو یہ بھی مرض الموت ہیں اور اگر ایک حالت پر قائم ہوگئے اور پُرانے ہوگئے یعنی ایک سال کا زمانہ گزر گیا تو اب اُس شخص کے تصرفات تندرست کی مثل نافذ ہوں گے” (بہار شریعت ح٨ ص ١٦۴)

اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
"جب تک مرض سے خوف ہلاک غالب ہو مرض الموت ہے۔ جب مرض مزمن ہوجائے خوف ہلاک غالب نہ رہے اس وقت وہ مرض الموت نہیں رہتا۔ جب تک اس میں نئی ترقی ہو کر پھر خوف ہلاک کا غلبہ نہ ہوجائے۔”
(فتاوی رضویہ ج٨ ص٢٢۵)

اور وہ دس لاکھ روپیہ جو زید نے اپنے نام سے بینک میں جمع کرکے اس کا نامنی ( Nominee) اپنے بیٹے کو بنایا ہے اس میں تمام شرعی وارثوں کا حصہ ہے۔زید کے لڑکے پر از روئے شرع لازم ہے کہ ان روپیوں میں دوسرے وارثو،ں کا جو حصہ ہوتا ہے اس کو ادا کرے ورنہ حقوق العباد میں گرفتار اور مستحق عذاب نار ہوگا۔

نامنی (Nominee)کے بارے میں مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے زیرِ اہتمام منعقدایک سیمینار میں شریک تمام مفتیان کرام نے درج ذیل فیصلہ کیا:
"بیمہ زندگی، فکس ڈپوزٹ اور ڈاکخانے کی مختلف اسکیموں میں روپیے جمع کرنے کے لیے جو فارم پُر کیے جاتے ہیں ان میں ایک خانہ اس شخص کی نامزدگی کا ہوتا ہے جسے روپیے جمع کرنے والے کی موت کی صورت میں اصل رقم مع منافع وصول کرنے کا حق ہو اس پر یہ بحث ہوئی کہ اس نامزدگی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یہ وصایت ہے یا وصیت یا کچھ اور؟
بحث وتمحیص کے بعد مجلس کا اس پر اتفاق ہے کہ صورتِ مذکورہ وصایت ہے جس میں نامزد شخص کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ رقم وصول کرکے شرعی قانون کے مطابق ورثہ کے مابین تقسیم کردے۔”
(مجلس شرعی کے فیصلے جلد اول ص ٢٢٧)

حاصل یہ ہے کہ اگر زید نے نقد دس لاکھ روپیہ مرض الموت میں نہ دیا ہو تو اس نقد روپیےمیں کسی وارث کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن اگر مرض الموت میں دیا ہو تو اس میں تمام شرعی وارثوں کا حصہ ہے۔اور بینک میں جمع روپیہ یوں ہی زید کی دوسری تمام جائیداد می بھی تمام وارثین کا حصہ ہے۔اب اگر زید کے اتنے ہی وارثین ہیں جتنے سوال میں مذکور ہیں تو تجہیز وتکفین اور وصیتیں پوری کرنے اور دیون کی ادائیگی کے بعد اس کی تمام جائیداد کے چودہ حصے کیے جائیں گے جن میں سے ہر لڑکے کو دو دو حصہ اور ہر لڑکی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔اللہ تعالی کا فرمان عالیشان ہے:
"يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ ” (سورہ نساء: آیت ١١)

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔
٦/جمادی الاولی ١۴۴٣ھ//١٢/دسمبر ٢٠٢١ء

Leave a Reply

%d bloggers like this: