سودبھرنا(زمین کو بٹائ پر دینا ) زمین سے فائدہ اٹھانا یہ سود ہے یا نہیں؟

سودبھرنا زمین سے فائدہ اٹھانا یہ سود ہے یا نہیں؟

کیا فرما تے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ بہار کے کچھ علاقوں میں لوگ اپنی کھیتوں کی زمین کو بھرنا پر رکھتے ہیں،یعنی مستقرض مقرض سے کچھ روپے یہ کہ کر لیتا ہے کہ جب تک میں آپ کا قرض لوٹا نا دوں آپ اس میں کھیتی کرنا۔اب جواب طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ صورت جائز ہے؟ کیا یہ سود ہو گا؟ لوگ اسے گاؤں میں سود بھرنا کہتے ہیں۔ جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسؤولہ میں زمین رہن رکھنا مالی عوض کے بدلے اس شرط کے ساتھ کہ جب تک مقروض روپے واپس نہیں کرتا تب تک کے لیے زمین کاشت کرکے قرض دینے والا فائدہ اٹھاتا رہے گا تو یہ ناجائز ہے ۔ اور یہ انتفاع بھی سود ہے ۔

فتاویٰ رضویہ میں ہے

"مرتہن کو مرہون سے نفع اٹھانا حرام اورنراسُودہے” ۔

قرض دینے والے شخص کا مقروض آدمی کی زمین سے فائدہ اٹھاناسود میں شامل ہے اور حرام ہے، اس لیے اس طرح کامعاہدہ کرنا جائز نہیں ہے، نیز اس کی رو سے قرض دینے والے کے لیے مقروض کی زمین سے اس کی مرضی کے باجود فائدہ اٹھانا حلال نہیں ۔

موجودہ دور میں بعض علاقوں میں زمینوں کو طویل المیعاد قرضوں کے بدلے گروی رکھوایا جاتاہے اور ان زمینوں پر کاشت کاری کرکے نفع اٹھایا جاتاہے، اور قرض کی ادائیگی کی صورت میں اصل مالک کو زمین واپس کردی جاتی ہے، شرعاً یہ جائز نہیں ہے۔

البتہ قرض کے بدلہ میں محض رہن کے طور پر کسی کی زمین اپنے پاس رکھنا جائز ہے؛ تاکہ اگر قرض دار قرض نہ ادا کرسکے تو اس قیمتی چیز سے قرض کی رقم کی ادائیگی کا انتظام کیا جاسکے۔لیکن رہن میں رکھی جانے والی چیز کی حیثیت محض ضمانت کی ہوتی ہے، اور رہن میں رکھے جانے کے بعد بھی رہن (گروی) رکھی ہوئی چیز اس کے اصل مالک کی ہی ملک رہتی ہے، البتہ قبضہ مرتہن (جس کے پاس گروی رکھی ہوئی ہے) کا ہوتا ہے۔ نیز اس میں پیدا ہونے والی زیادتی بھی مالک کی ملک قرار پاتی ہے۔ اور مرتہن (جس کے پاس چیز گروی رکھی ہو) کے لیے شرعاً اس کے استعمال اور اس سے نفع کمانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاً حرام؛ فكره للمرتهن سكنى الموهونة بإذن الراهن”. (5/166)

وفیه أیضاً:

"اَلرَهنُ هو حَبسُ شيءٍ مالیٍ بِحَقٍ یُمکِنُ اِستِیفائُه مِنه کَالْدَّینِ”. (درمختار ج۵/ ص۳۰)

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ:مفتی محمدشمس تبریزقادری علیمی ۔

Leave a Reply