واشنگ مشین سے دھلے کپڑے کی طہارت

واشنگ مشین سے دھلے کپڑے کی طہارت

عنوان :کیا فرماتےہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ نجس و ناپاک کپڑے واشنگ مشین میں دھونے سے پاک ہو جائیں گے یا نہیں ؟

سائل: ثاقب رضا رضوی بنگلور کرناٹک

الجواب بعون الملک الوہاب۔

واشنگ مشین میں کپڑے دھلنے کی جو کیفیت ہے اس کے لحاظ سے نجاست مرئیہ ہو یا غیر مرئیہ بہرحال کپڑا دھلنے کے بعد اس ڈبہ سے کپڑا نکال لیں اور پانی بھی بہا دیں بعدہ اسی یا دوسرے کسی برتن میں دھل کر پانی بھریں پھر اس پانی سے کپڑا دھلیں اور نکال کر اپنی پوری قوت سے نچوڑ دیں بعدہ پانی بہا دیں اب نئے پانی سے اس برتن اور ہاتھ کو دھل کر دوبارہ پانی لیں اور اسی طرح کریں پھر تیسری بار بھی اسی طرح البتہ اس بات کا خیال رہے کہ نجاست مرئیہ ہونے کی صورت میں عین نجاست زائل ہوجاے مثلا پاخانہ سوکھ گیا ہو تو وہ کپڑے سے جدا ہوجاے۔

اور اگر کپڑا سکھانے والے حصہ سے سکھاکر پاک کرنا چاہیں تو تین بار تین نئے پانیوں سے ہر بار اس قدر سکھائیں کہ اتنا پانی نکل جاے جتنا وہ اپنی پوری قوت سے نکال سکتا تھا یا اس سے زائد۔

        اس صورت میں قوت کی قید اسلئے ذکر کی کہ ممکن ہے کوئی ڈالے اور دو چند منٹ میں پورا پانی سوکھنے سے قبل ہی نکال لے ورنہ یہ معلوم ہے کہ اس سکھانے والے ڈبہ سے بالکل پانی نکل جاتا ہے اور صرف نمی باقی رہتی ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کپڑے دھلنے کے بعد بڑے برتن مثلا بالٹی ٹب وغیرہ میں ڈال دیں پھر نل یا ٹنکی کی ٹونٹی سے پانی جاری کر دیں اور جب یہ ظن غالب ہوجاے کہ نجاست نکل گئی ہوگی تو کپڑوں کو نکال لیں کپڑے پاک ہوجائیں گے اس طریقہ طہارت میں نچوڑنے کی شرط نہیں اور یہ پہلے کے مقابل آسان ہے نیز اس طریقہ سے پاک کئے ہوے کپڑے ہر ایک کیلئے پاک ہوں گے۔

ﻭﺇﺯاﻟﺘﻬﺎ ﺇﻥ ﻛﺎﻧﺖ ﻣﺮﺋﻴﺔ ﺑﺈﺯاﻟﺔ ﻋﻴﻨﻬﺎ ﻭﺃﺛﺮﻫﺎ ﺇﻥ ﻛﺎﻧﺖ ﺷﻴﺌﺎ ﻳﺰﻭﻝ ﺃﺛﺮﻩ ﻭﻻ ﻳﻌﺘﺒﺮ ﻓﻴﻪ اﻟﻌﺪﺩ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ ﻓﻠﻮ ﺯاﻟﺖ ﻋﻴﻨﻬﺎ ﺑﻤﺮﺓ اﻛﺘﻔﻰ ﺑﻬﺎ ﻭﻟﻮ ﻟﻢﺗﺰﻝ ﺑﺜﻼﺛﺔ ﺗﻐﺴﻞ ﺇﻟﻰ ﺃﻥ ﺗﺰﻭﻝ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺴﺮاﺟﻴﺔ”

(ج١،ص٤١)

ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻧﺖ ﻏﻴﺮ ﻣﺮﺋﻴﺔ ﻳﻐﺴﻠﻬﺎ ﺛﻼﺙ ﻣﺮاﺕ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ ﻭﻳﺸﺘﺮﻁ اﻟﻌﺼﺮ ﻓﻲ ﻛﻞ ﻣﺮﺓ ﻓﻴﻤﺎ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﻭﻳﺒﺎﻟﻎ ﻓﻲ اﻟﻤﺮﺓ اﻟﺜﺎﻟﺜﺔ ﺣﺘﻰ ﻟﻮ ﻋﺼﺮ ﺑﻌﺪﻩ ﻻ ﻳﺴﻴﻞ ﻣﻨﻪ اﻟﻤﺎء” (ج١،ص٤٢)

در مختار میں ہے”ﻭ ﻳﻄﻬﺮ ﻣﺤﻞ ﻏﻴﺮﻫﺎ ﺃﻱ ﻏﻴﺮ ﻣﺮﺋﻴﺔ ﺑﻐﻠﺒﺔ ﻇﻦ ﻏﺎﺳﻞ ﻟﻮ ﻣﻜﻠﻔﺎ ﻭﺇﻻ ﻓﻤﺴﺘﻌﻤﻞ ﻃﻬﺎﺭﺓ ﻣﺤﻞﻫﺎ ﺑﻼ ﻋﺪﺩ ﺑﻪ ﻳﻔﺘﻰ”

اس کے تحت ردالمحتار میں ہے”ﺃﻗﻮﻝ ﻭﻫﻮ ﺧﻼﻑ ﻣﺎ ﻓﻲ اﻟﻜﺎﻓﻲ ﻣﻤﺎ ﻳﻘﺘﻀﻲ ﺃﻧﻬﻤﺎ ﻗﻮﻝ ﻭاﺣﺪ ﻭﻋﻠﻴﻪ ﻣﺸﻰ ﻓﻲ ﺷﺮﺡ اﻟﻤﻨﻴﺔ ﻓﻘﺎﻝ ﻓﻌﻠﻢ ﺑﻬﺬا ﺃﻥ اﻟﻤﺬﻫﺐ اﻋﺘﺒﺎﺭ ﻏﻠﺒﺔ اﻟﻈﻦ ﻭﺃﻧﻬﺎ ﻣﻘﺪﺭﺓ ﺑﺎﻟﺜﻼﺙ ﻟﺤﺼﻮﻟﻬﺎ ﺑﻪ ﻓﻲ اﻟﻐﺎﻟﺐ ﻭﻗﻄﻌﺎ ﻟﻠﻮﺳﻮﺳﺔ ﻭﺃﻧﻪ ﻣﻦ ﺇﻗﺎﻣﺔ اﻟﺴﺒﺐ اﻟﻈﺎﻫﺮ ﻣﻘﺎﻡ اﻟﻤﺴﺒﺐ اﻟﺬﻱ ﻓﻲ اﻻﻃﻼﻉ ﻋﻠﻰ ﺣﻘﻴﻘﺘﻪ ﻋﺴﺮ ﻛﺎﻟﺴﻔﺮ ﻣﻘﺎﻡ اﻟﻤﺸﻘﺔ اﻩ ﻭﻫﻮ ﻣﻘﺘﻀﻰ ﻛﻼﻡ اﻟﻬﺪاﻳﺔ ﻭﻏﻴﺮﻫﺎ ﻭاﻗﺘﺼﺮ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﻲ اﻹﻣﺪاﺩ ﻭﻫﻮ ﻇﺎﻫﺮ اﻟﻤﺘﻮﻥ ﺣﻴﺚ ﺻﺮﺣﻮا ﺑﺎﻟﺜﻼﺙ”(ردالمحتار ،ج١، ص٥٩٣)۔

واللہ تعالی اعلم

شان محمد المصباحی القادری

١٥جولائی٢٠٢٠

Leave a Reply