کوئی یہ کہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور آپ لوگ دیوبندی وہابی کے چکر میں پڑے ہو تو اُسکے لیے کیا حکم ہے؟

کوئی یہ کہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور آپ لوگ دیوبندی وہابی کے چکر میں پڑے ہو تو اُسکے لیے کیا حکم ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درج ذیل مسئلہ کے متعلق کہ زید(جب کہ اس کو سندِ عالمیت حاصل ہے) کہتا ہے کہ ” دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور آپ وہابیوں کے چکر میں پڑے ہیں۔ چھوڑو ان سب کو” تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا اس طرح کہنا عند الشرع کیسا ہے؟

نیز زید پر کیا حکم وارد ہوگا؟

مدلل جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔

ســـائل :  ذیشـان احمـد دوسـت پـور سلطـان پـور یوپی

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

بسـم اللـہ الرحمٰـن الرحیـم

الجــوابـــــــــــ بعون الملک الوہاب اللھم ھدایتہ الحق والصواب

صورت مسئولہ میں زید وہابی نہیں تو کم ازکم صلح کلی ‘ گمراہ ضرور ہے۔مذہبی تصلب سےدور ‘رواداری کے چولےمیں راہ حق سے نفور ہے۔اسی لئےتووہابیوں سےمیل جول نہ رکھنےکو بنظرکراہت "چکر میں پڑنا”ظاہر کرتاہے۔ایسوں کے متعلق احادیث کریمہ میں سخت تاکید ی حکم موجود ہے۔

(ایاکم وایاھم لایضلونھم ولا یفتنونکم ان مرضوا فلا تعودوھم وان ماتوا فلاتشھدوھم وان لقیتموھم فلا تسلموا علیھم لاتجالسوھم ولا تشاربوھم ولاتواکلوھم ولاتناکحوھم ولاتصلوا علیھم ولاتصلوا معھم)

یعنی تم ان سے دور رہو اور انہیں اپنے قریب نہ آنے دو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں ، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں ، اگر بیمار پڑجائیں تو انکی عیادت نہ کرو ـ اگر وہ مر جائیں ان کے جنازے میں شریک نہ ہو ان سے ملاقات ہو تو ان سے سلام نہ کرو ـ ان کے ساتھ نہ بیٹھو ـ ان کے ساتھ پانی نہ پیو ، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ ، ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو ، ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو ( مسلم شریف، ابوداؤد شریف ،ابن ماجہ شریف) عقیلی اور ابن حبان کی روایات کا مجموعہ ہے۔

( انوارالحدیث ص،٩٠)

اور اس سے میل جول رکھنے میں تعظیم کرنا بھی پایا جاۓ گا اور تعظیم کرنا اسلام کو ڈھانے کے مثل ہے عن ابراہیم بن میسرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام حضرت ابراہیم بن میسرۃ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے بدمذہب کی تعظیم کی اس نے اسلام کو ڈھانے پر مدد کی

(انوار الحدیث ص، ٨٩)

جیسا کہ ارشاد باری ہے

وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الـذِّكْـرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِيْنَ (68)

ترجمہ کنز الایمان: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔

(کنز الایمان،پارہ ٧، سورۃ الانعام، آیۃ ٦٨،ص،٢٦٠)

لہذا ان لوگوں سے دور رہیں اور اگر کوئی نہیں مانے گا تو اپنے آپ کو ایسے انسان سے دور رکھے

(ومن یتولھم منکم فانہ منھم ( المائدۃ ۵/۵۱ )

’اورتم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے‘‘(کنز الایمان )

الانتباہ__ زید کا اس طرح کہنا عند الشرع جائز نہیں ہے

اب زید پر حکم یہ ہے کہ وہ اعلا نیہ توبہ کرے۔اور اگر نہ مانے تو ایسوں سے خود کودور رکھے۔اور آئندہ ایسی باتوں سے باز رہے۔

نیز، زید جو سند عالمیت سے سرفرازہے اپنے اس قول بدتر از بول سے تا ئب ہو ورنہ ایسے عالم کا عوام بائکاٹ کریں،

واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب

حضرت علامہ مولانا محمد منظــــور عالم قــادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

استاد دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام

چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج (یوپی)

Leave a Reply