وہابی ،دیوبندی اور بد مذہب سے تعلیم حاصل کرنا کیسا ہے

وہابی ،دیوبندی اور بد مذہب سے تعلیم حاصل کرنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے علماے دین ومفتیان شرع متین کہ بدمذہبوں کے وہاں تعلیم دلوانا جائز ہے یا نہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب :

علوم دینیہ صرف ایسے لوگوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے جو صحیح عقائد رکھتے ہوں کوئی بدعتی وبد مذہب اس کا اہل نہیں کہ اس سے دینی علم حاصل کیا جاے ۔لھذا بدمذہبوں سے دینی تعلیم دلوانا ناجائز وحرام ہے کیوں کہ اس سے جہاں عقائد خراب ہونے کا خدشہ ہے وہیں ان کی تعظیم بھی اور بدمذہب قابل تعظیم نہیں بلکہ لائق توہین ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :

” من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام” اھ

(مشکاۃ المصابیح : باب: الاعتصام )

اعلٰی حضرت اما احمد رضا قدس سرہ العزیز سے سوال ہوا کہ وہابیوں کے پاس اپنے لڑکوں کو پڑھانا کیسا ہے تو آپ نے فرمایا :

” حرام حرام حرام ،اور جو ایسا کرے بد خواہ اطفال ومبتلاے آثام” اھ

(الفتاوی الرضویہ : ج: 23، ص: 682) واللہ تعالٰی اعلم

کتبہ: مفتی عبد القادر المصباحی الجامعی

مقام : مہیپت گنج ،ضلع : گونڈا، یو پی، انڈیا

٦ربیع الاوّل ١٤٤٣ھ

Leave a Reply

%d bloggers like this: