ادھار خریدے ہوئے بکرے کا عقیقہ کرنا کیسا ؟

ادھار خریدے ہوئے بکرے کا عقیقہ کرنا کیسا ؟

مفتی محمد ارشد حسین الفیضی۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی نے ادھار بکرا خریدا اور بکرے کے مالک نے یہ کہکر بکرا دے دیا کہ جب تمہارے پاس رقم ہوجائے گا تو ادا کردینا تو کیا اس بکرے کا عقیقہ ہوسکتا ہے. بینوا توجروا.
المستفتی:عبد الرشید کھمبات گجرات
بسم ﷲ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب

اس طرح خرید وفروخت کرنا جائز نہیں بلکہ فاسد ہے وجہ یہ کہ جب خرید وفروخت کے معاملہ میں ثمن کا ادھار ہونا متعین ہوجائے تو اس کی ادائیگی کے لیے کوئی خاص مدت متعین کرنا لازم ہوتا ہے اگر مدت متعین نہ کی جائے یا ایسی مقرر کی جائے جو فریقین نہ جانتے ہوں یا ایک کو اس کا علم نہ ہو تو بیع فاسد ہے دونوں پر لازم ہے کہ بیع کو فسخ کرکے مدت ادائے ثمن کی تعیین کے ساتھ پھر سے ایجاب وقبول کریں تو بیع جائز ہوجائے گی.

بحر الرائق میں ہے”وصح بثمن حال وباجل معلوم ای البیع لاطلاق النصوص، وفی السراج الوھاج ان الحلول مقتضی العقد وموجبہ والاجل لایثبت الا بالشرط اھ قید بعلم الاجل لان جھالتہ تفضی الی النزاع فالبائع یطالبہ فی مدۃ قریبۃ، والمشتري یاباھا فیفسد” اھ(ج٥ص٤٦٦۔٤٦٧، کتاب البیع، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

فتاویٰ ھندیہ میں ہے” واما شرائط الصحۃ فعامۃ وخاصۃ فالعامۃ لکل بیع ما ھو شرط الانعقاد لان مالاینعقد لم یصح ولا ینعکس فان الفاسد عندنا منعقد نافذ اذا اتصل بہ القبض واما الخاصۃ فمنھا معلومیۃ الاجل فی البیع بثمن مؤجل فیفسد ان کان مجھولا” اھ ملخصا(ج٣ص٣،کتاب البیوع، الباب الأول فی تعریف البیع ورکنہ وشرطہ وحکمہ…. الخ)
درمختار میں ہے”ولاالبیع بثمن مؤجل الی النیروز والمھرجان وصوم النصاری وفطر الیھود اذا لم یدرہ المتعاقدان”اھ (ج٧ص٢٧٨، کتاب البیوع)

درمختار میں ہے”ویجب علی کل واحد منھما فسخہ قبل القبض او بعدہ مادام المبیع بحالہ فی ید المشتری اعداما للفساد” اھ(ج٧ ص٢٩٣،کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب:فی الشرط الفاسد……. الخ)

البتہ اگر جدید بیع کے بغیر ہی خریدار نے بکرے پر قبضہ کرکے عقیقہ کر دیا تو عقیقہ ہوجائے گا کہ بیع فاسد میں قبضہ کرلینے سے ملک حاصل ہو جاتی ہے اگر فروخت کرنے والا زندہ بکرے کی واجبی قیمت خریدار سے لے لے گا تو اب اس کے ذمہ کچھ واجب بھی نہیں رہے گا.

فتاویٰ ھندیہ میں ہے”رجل اشتری شاۃ شراء فاسدا فذبحھا عن الاضحیۃ جاز وللبائع الخیار فان ضمنہ قیمتھا حیۃ فلاشئی علی المضحی وان اخذھا مذبوحۃ قیل علی المضحی ان یتصدق بقیمتھا حیۃ” اھ(ج٥ص ٣٠٢،کتاب الاضحیۃ، الباب السابع فی التضحیۃ عن الصغیر.. الخ، بولاق مصر المحمیۃ)

درمختار میں ہے” واذا قبض المشتری المبیع برضا بائعہ صریحاً او دلادلۃً بان قبضہ فی مجلس العقد بحضرتہ فی المبیع الفاسد ولم ینھہ البائع عنہ ملکہ”اھ(ج٧ص٢٩٠، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد،مطلب: فی الشراء الفاسد.. الخ) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب.

کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی
٦رمضان المبارک ١٤٤٤ھ

Leave a Reply