ٹیشو پیپر کا استعمال جائز ہے یانہیں؟ مفتی نظام الدین رضوی

ٹیشو پیپر کا استعمال جائز ہے یانہیں؟

سوال : آج کل عام طور سے سے انگریزی بیت الخلاء بنا ہوتا ہے ہے اور اس کے پاس ٹیشو پیپر رکھا رہتا ہے اس کا استعمال جائز ہے یانہیں؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــ

اولا انگریزی بیت الخلا بنوانا ہی نہیں چاہیے،کیونکہ اس میں پانی بھرا رہتا ہے جو ناپاک ہے اور اس پانی پر جب دباؤ پڑتا ہے تو

چھلکتا ہے جس کی وجہ سے بدن ناپاک ہو جاتا ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ جان بوجھ کر بدن اور کپڑے کو ناپاک کرنا حرام ہے البتہ

جو کسی وجہ سے مجبور ہے وہ معذور ہے ۔

رہ گیا ٹیشو پیپر کا مسئلہ تو اس کا مصرف سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ جس کام کے لیے بنا ہے اس میں استعمال کیا

جائے بلکہ جسم کو گندگی سے بچانے کے لیے اس کا استعمال کرنا ضروری ہے ایسے بیت الخلاء میں پہلے سے ٹیشو پیپر

ڈال دیں پھر بیٹھیں تو پانی چھلک کر اوپر نہیں آئے گا، اپنے بدن کو ناپاکی سے بچانے کے لئے اسے ڈالنا چاہیے،مگر اپنے

گھروں میں یہ سب چیزیں نہ لائیں،اگر کہیں پھنس گئے ہوں تو استعمال کی اجازت ہے ہندوستانی طرز کے جو استنجا خانے

ہیں انہیں کو استعمال کرنےمیں اچھائی ہے اور نجاست سے حفاظت اور بچاؤ بھی ۔

والله تعالى اعلم بالصواب

کتبـــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پو ر 

Leave a Reply

%d bloggers like this: