دی ہنڈرڈ کتاب میںحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی تعریف یاگستاخی؟

دی ہنڈرڈ کتاب میںحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی تعریف یاگستاخی؟

(۱۹۷۸ء) میں مائیکل ہارٹ نے {The 100 } کے نام سے کتاب لکھی تھی۔ مائیکل ہارٹ امریکا میں پیدا ہوا، اس نے ایڈلفی یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹر اور پھر پرنسٹن یونیورسٹی سے علم فلکیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ہارٹ طویل عرصے تک معروف امریکی ادارے ناسا کے ساتھ کام کرتا رہا۔ اس دوران مختلف سائنسی موضوعات پر ریسرچ مضامین بھی لکھتا رہا۔ اس دوران ہارٹ کی مختلف سائنسی تحقیق سے متعلق کتابیں بھی شائع ہوتی رہیں۔ (۱۹۷۸ء) میں مائیکل ہارٹ نے دنیا کے سو عظیم انسانوں کی فہرست مرتب کرنے کی ٹھانی، بعد ازاں یہ فہرست کتاب کی شکل میں شائع ہوئی۔
اس کتاب میں سب سے پہلے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاذکرخیرکیاگیااوراس کے بعد حضرت سیدناموسی علیہ السلام اورحضرت سیدناعیسی علیہ السلام اورحضرت سیدناامیرالمومنین عمررضی اللہ عنہ کاذکرکیاگیا۔ اسی کتاب میں بڑے بڑے قاتلوں ، بدمعاشوں اورمراثیوں اوربڑے بڑے دہشت گردوں کاذکرکیاگیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سارے لوگ بالخصوص لبرل وسیکولرطبقہ اس کتاب کو سراہنے لگ گیااورکہنے لگاکہ بڑی بات ہے کہ اس میں سب سے پہلے اس نے ہمارے نبی کریم ﷺکانام لکھاہے اوراس کے بعد دوسروں کے نام لکھے ہیں۔اب اس کادوسراپہلودیکھیں جس کی طرف ہمارے لوگوں کی نظرنہیں گئی وہ یہ کہ نعوذ باللہ من ذلک اس نے جو ایک فہرست ترتیب دی اس میں کافروں اوربے دینوں اوردشمن لوگوں کے ساتھ ہمارے حبیب کریمﷺکااسم گرامی لکھناتوہین رسالت ہے ۔
بہت عرصہ پہلے ایک مولوی صاحب جو لبرل ذہن کے مالک تھے سے بحث ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ اب توانگریز بھی ہمارے نبی کریم ﷺکو ماننے لگے ہیں ، اس نے پھرمائیکل ہارٹ کی کتاب کاحوالہ دیاتو میں نے اسے کہاکہ یہ توحضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی ہے ، کافی دیر بحث کے بعد جب وہ سمجھنے کے قریب نہیں آرہاتھاتو میں نے کہاکہ اگرمیں کہوں کہ آپ کے اباجی اورابوجہل اورابولہب اورفرعون بہت عظیم لوگ تھے تو تمھارے خیال میں کیساہے ؟ کیونکہ میں نے تمھارے اباجی کانام سب سے پہلے لیاہے اوراس عظیم لوگوں کی فہرست میں آپ کے اباجی کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کانام سرفہرست لکھاہے توفوراً ان کی اندرکی غیرت جو مردہ ہوچکی تھی جاگی اورکہنے لگے کہ تم کوحیانہیں ہے کہ میرے اباجی کاذکراس طرح کرتے ہو۔ میں نے کہا : تم کوحیانہیں ہے کہ ہمارے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاذکروہ غیرمحسوس طریقے سے گستاخی کریں اورکافروں اوردین دشمنوں کے ساتھ آپ ﷺکانام ذکرکریں اورتم کو خوشی ہوتوجب میں نے تیرے اباجی کانام اسی طرح لیاتوتم کو تکلیف ہوگئی ۔ جب بات اس کے اپنے اباجی پرپہنچی تو اس کوسمجھ آئی کہ واقعی میں اس میںتوگستاخی ہے ۔
اسی بات کو ہم مزید کھولتے ہیں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی رہے ۔ جب ہم کسی بھی مسلمان کاذکرکسی کافرکے ساتھ کریں یعنی یہ کہیں کہ بشیر، ابوجہل ، ابولہب اورفرعون بڑے عظیم لوگ ہیں ۔ تواس کے دومطلب بنیں گے کہ قائل کے نزدیک بشیر، ابوجہل ، ابولہب اورفرعون سارے کافرہیں اورسارے دین دشمن ہیں ، اس طرح تین کافروں کے ساتھ ایک مسلمان کوبھی کافرکہنالازم آئے گاجوکہ حرام حرام اشدحرام ہے ۔ اوردوسرامطلب یہ ہوگاکہ بشیرکے ساتھ ساتھ دوسرے کافروں کو بھی مسلمان ماننالازم آئے گا، اس طرح وہ لوگ جنہوںنے اپنی ساری زندگی انبیاء کرام علیہم السلام کی دشمنیوں میں گزاری اورراہ حق میں روڑے اٹکاتے رہے اوراہل اسلام پر طرح طرح کے مظالم ڈھاتے رہے ان کو بھی راہ حق کاداعی ماننالازم آئے گا۔
تواسی طرح اس مائیکل ہارٹ نے بھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺاورحضرت سیدناموسی علیہ السلام اورحضرت سیدناعیسی علیہ السلام اورحضرت سیدناامیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ کاذکرخیرایسے لوگوں کے ساتھ جو کہ دہریئے ، دین دشمن ، بدھ مت کے بانی ، دہشت گرد ، مراثی لوگوں کے ساتھ کرکے ان کی توہین کی ہے اورایسے طریقے کے ساتھ کی ہے کہ لوگوں کو پتہ تک نہیں چلنے دیاکہ سارے لوگ گستاخی کو بھی واہ واہ کرکے قبول کررہے ہیں۔
اس طرح ایک اورخرابی ہوئی کہ نام نہاد مسلمانوں نے اپنے نبی کریم ﷺکانام اورحضرت سیدناموسی علیہ السلام اورحضرت سیدناعیسی علیہ السلام اورحضرت سیدناامیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ کانام نامی اسم گرامی دیکھ کران کے ذلیل لوگوں کو بھی عظیم انسان مان لیا۔
کہاں اللہ تعالی کے انبیاء کرام علیہم السلام ا ورحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ اورکہاں وہ ارزل الناس اورابغض الخلق لوگ ؟
وقت کی قلت کے پیش نظرہم تھوڑاسا اس کتاب کا جائزہ پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں :
(۱) حضرت سیدناموسی علیہ السلام اورحضرت سیدناعیسی علیہ السلام کے ساتھ ارسطواورافلاطون کاذکرکیاہے ۔
(۲)جس میں اس نے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ اورچنگیزخان کوایک ہی صف میں کھڑاکیاہے
(۳)مختلف مذاہب کے بانیان اور موجد، دریافت کنندگان، ادیب، مصور، فلسفی، سیاسی اور فوجی شخصیات کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔
(۴) پوپ ارن دوم المتوفی :۱۰۹۹ء)جوکہ صلیبی جنگوں کااصل محرک ہے اورکروڑوںلو گوںکاقاتل ہے اس کے ذکرکے بعد حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کاذکرکیاظاہرکرتاہے کہ دونوں شخصیات ایک ہی نہج پرکام کرنے والی تھیں ۔نعوذ باللہ من ذلک اس نے یاتوپوپ کو انصاف پسندکہاہے یاپھرحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کو ظلم کرنے والا۔
(۵) ملکہ آئزبیلا المتوفیہ :۱۵۰۴ء)کاذکرکیاجوکہ اسپین سے اہل اسلام کو نکالنے والی کافرہ خاتون ہے ۔
(۶) جوزف استالن المتوفی : ۱۹۵۳ء)یہ بھی کافرہے جس نے سردجنگ شروع کی تھی جو آج بھی اہل اسلام کے خلاف جاری وساری ہے ۔
(۷) جوہن باخ المتوفی : ۱۷۵۰ء)یہ بھی کافرتھاجس نے موسیقی میں اختراعات کیں تھیں۔
(۸)لوئیس ڈیگیوری المتوفی : ۱۸۸۷ء)اس نے فوٹو گرافی ایجادکی۔
(۹)اولیور کروم ویل المتوفی :۱۶۵۸ء)یہ فوجی رہنماتھاجس نے برطانیہ میں پارلیمانی جمہوریت کو نظام حکومت کے طور پر رائج کیااورپھروہاں سے جمہوریت کی لعنت ساری دنیامیں پھیلائی گئی ۔
(۱۰)ہٹلرالمتوفی : ۱۹۵۶ء)نصرانی مذہب کاپیروکارسیاسی و فوجی رہنماقومی اشتراکیت پسندی، نسل کشی، نسل پسندی، دوسری جنگ عظیم کا ایک بڑا کرداررہاہے ۔
(۱۱)ولیم شیکسپیئرالمتوفی : ۱۶۱۶ء)ادیب (ڈرامہ نگاراپنے ڈراموں کی بدولت مغربی تہذیب وتمدن پوری دنیامیں پھیلانے کاذمہ دار۔
(۱۲)چنگیز خان المتوفی : ۱۲۲۷ء)سیاسی و فوجی رہنماتھااوراس نے منگول سلطنت کے پھیلاؤ کاکام کیااورلا کھوں لاکھ مسلمانوں کوقتل کردیا۔
(۱۳)چارلس ڈارون المتوفی : ۱۸۸۲ء)سائنس دان جس نے نظریۂ ارتقا پیش کیااوریہی شخص ایک لاکھ چوبیس ہزارانبیاء کرام علیہم السلام کاگستاخ اورکروڑوں یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبہ اورپڑھانے والے پروفیسروں کے گستاخ بننے کااصل ذمہ دار۔
اس مسئلہ کی وضاحت مزیدکے لئے یہ حدیث شریف ملاحظہ فرمائیں

حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکافرمان شریف
عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّہُ ذُکِرَ عِنْدَہَا مَا یَقْطَعُ الصَّلاَۃَ، فَقَالُوا:یَقْطَعُہَا الکَلْبُ وَالحِمَارُ وَالمَرْأَۃُ، قَالَتْ:لَقَدْ جَعَلْتُمُونَا کِلاَبًا،لَقَدْ رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی،وَإِنِّی لَبَیْنَہُ وَبَیْنَ القِبْلَۃِ، وَأَنَا مُضْطَجِعَۃٌ عَلَی السَّرِیرِ،فَتَکُونُ لِی الحَاجَۃُ، فَأَکْرَہُ أَنْ أَسْتَقْبِلَہُ،فَأَنْسَلُّ انْسِلاَلًا۔
ترجمہ :حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے، ان کے سامنے تذکرہ ہوا کہ نماز کو کیا چیز توڑ دیتی ہے، لوگوں نے کہا:کتے، گدھے اور عورت کے (نمازی کے)سامنے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ اس پر حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے فرمایا:تم لوگوں نے ہم عورتوں کو تو کتوں کے برابر بنا دیا ہے، حالانکہ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے کہ میں آپ ﷺکے اور قبلے کے درمیان چار پائی پر لیٹی ہوتی تھی، پھر اگر مجھے کوئی ضرورت ہوتی اور میں بحالت نماز آپﷺ کے سامنے آنے کو ناپسند سمجھتی تو آہستہ سے کھسک کر نکل جاتی۔
(صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۱:۱۰۸)
صحیح مسلم میں ہے
عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:عَدَلْتُمُونَا بِالْکِلَابِ وَالْحُمُرِ، لَقَدْ رَأَیْتُنِی مُضْطَجِعَۃً عَلَی السَّرِیرِ،فَیَجِیء ُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَتَوَسَّطُ السَّرِیرَ، فَیُصَلِّی فَأَکْرَہُ أَنْ أَسْنَحَہُ، فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَیِ السَّرِیرِ حَتَّی أَنْسَلَّ مِنْ لِحَافِی۔
ترجمہ:حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا:تم نے ہمیں کتوں اورگدھوں کے برابر کر دیا ہے، حالانکہ میں نے اپنے آپ کو (اس طرح)دیکھا ہے کہ میں چار پائی پر لیٹی ہوتی تھی،حضورتاجدارختم نبوتﷺتشریف لاتے اور چارپائی کے وسط میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، میں آپ ﷺکے سامنے ہونا پسند نہ کرتی، اس لیے میں چار پائی کے پایوں کی طرف سے کھسکتی یہاں تک کہ اپنے لحاف سے نکل جاتی۔
(صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (ا:۳۶۷)
اس حدیث شریف پرغورکرنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جب لوگوں نے حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے سامنے یہ کہاکہ عورت ،کتے اورگدھے کے گزرنے سے نما ز ٹوٹ جاتی ہے تو آپ رضی اللہ عنہاکاجلال میں یہ فرماناکہ تم نے ہمیں کتے کے ساتھ ملادیایاتم نے ہمیں کتوں اورگدھوں کے برابرکردیاہے ۔

آپ رضی اللہ عنہانے اس طرح عورتوں کاذکرگدھوں اورکتوں کے ساتھ کرناگستاخی سمجھااوردوسری بات یہ ہے کہ وہاں انہوں نے حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکانام نہیں لیاتھابلکہ مطلقاً یہ کہاتھاکہ عورت توآپ رضی اللہ عنہاکاجلال میں یہ فرماناکہ یہ ہماری گستاخی ہے تواہل اسلام کو خود غورکرلیناچاہئے کہ اس مائیکل ہارٹ نے کس طرح ہمارے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکانام اوردوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کانام کفاراوربے دینوں کے ناموں کے ساتھ شامل کیااوراس فہرست میں اس ذلیل کانام لکھاجس نے نظریہ ارتقاء پیش کیااورکروڑوں لوگوں کو انبیاء کرام علیہم السلام کاگستاخ بنادیا۔

اما م ا حمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ
مسلمانو!ان تینوں جلیل باتوں کی جمیل ترتیب تو دیکھو،سب میں پہلے ایمان کوذکرفرمایا اور سب میں پیچھے اپنی عبادت کو اور بیچ میں اپنے پیارے حبیب ﷺ کی تعظیم کو، اس لئے کہ بغیر ایمان، تعظیم کارآمد نہیں۔بہتیر ے نصٰاری ہیں کہ نبیﷺ کی تعظیم و تکریم اور حضور پر سے دفع اعتراضات کا فران لئیم میں تصنیفیں کرچکے ،لیکچر دے چکے مگر جبکہ ایمان نہ لائے ،کچھ مفیدنہیں کہ ظاہری تعظیم ہوئی ،دل میں حضور اقدس ﷺ کی سچی عظمت ہوتی تو ضرو ر ایمان لاتے۔ پھر جب تک نبیﷺکی سچی تعظیم نہ ہو، عمر بھرعبادت الٰہی میں گزرے، سب بے کارو مردودہے ۔بہتیر ے جوگی اور ر اہب ترک دنیا کرکے، اپنے طور پر ذکر عبادت الٰہی میں عمرکاٹ دیتے ہیں بلکہ ان میں بہت وہ ہیں ،کہ لاالٰہ الا اﷲکا ذکر سیکھتے اورضربیں لگاتے ہیں مگر ازآنجاکہ محمد رسول اللہﷺ کی تعظیم نہیں،کیا فائدہ؟ اصلاً قابل قبول بارگاہ الہٰی نہیں۔
(فتاوی رضویہ لامام احمدرضاحنفی ( ۳۰:۳۰۸)

امام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی کی عبارت سے بھی یہی معلوم ہوتاہے کہ ان کااس طرح ہمارے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عظمت وشان کو بیان کرناان کے لئے کوئی نفع مندنہیں ہے ، لھذاہم اہل اسلام کو اس پر خوش نہیں ہوناچاہئے ۔وہ بظاہرچارلفظ ہمارے کریم نبی ﷺکی شان میں بول دیتے ہیں توہماری عوام ان کے گرویدہ ہوجاتے ہیں ،ا س طرح ان کے طرح طرح کے بیان کردہ کفریات کو بھی قبول کرناشروع کردیتے ہیں۔

توپھرتم اسلام قبول کیوں نہیں کرتے ؟

بہت بڑاہندومشرک گاندھی نے ایک سنی عالم دین کو بطورخوشامداوراپنے لئے اہل اسلام کی خیرخواہیاں سمیٹنے کے لئے کہاکہ میں نے آپ کے نبی ﷺکی سیرت کامطالعہ کیاہے، میں آپ ﷺکی سیرت کامطالعہ کرکے جس نتیجے تک پہنچاہوں وہ یہ ہے کہ آپ ﷺسے بڑھ کرکوئی بھی نیک سیرت نہیں ہے اورنہ ہی آپ ﷺسے بڑھ کرکوئی عظیم انسان ہے ۔ تو وہ عالم دین فوراًگویاہوئے توپھرآپ کو اسلام قبول کرنے میں کونسی چیز مانع ہے ؟ یہ سنتے ہی گاندھی خاموش ہوگیا۔ وہ عالم دین بولے کہ یہ فریب کسی اورکوجاکردوہم تمھاری باتوں میں آنے والے نہیں ہیں۔

لبرل برگیڈ کو تنبیہ

ان انگریزوں اوران کے ہمنوالبرل وسیکولرلوگوں کوہم یہ ضرورکہیں گے کہ تم لوگ ۱۰۰یا پھر بے شک۲۰۰انسان لے کر اُن کی عظمت کی فہرست مرتب کرو لیکن حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کرحضورتاجدارختم نبوت ﷺتک آئے دنیا کے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزارانبیاء کرام علیہم السلام کو اپنی کتاب میں ان کاذکرہرگزہرگزنہ کرو کیوں کہ یہ تمام اللہ تبارک وتعالیٰ کے چنے ہو ئے لوگ ہیں ان تمام سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا ۔

Leave a Reply